سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 150
۱۵۰ رائے حاصل کرنے کے نہ رکھا جائے سوائے اس کے کہ رائے لینا نا ممکن ہو۔اسی طرح کوئی شخص جو گورنمنٹ یا کسی ریاست یا بورڈ یا کمپنی وغیرہ کے کسی صیغہ کی طرف سے برطرف ہوا ہو۔اس کو بغیر صدر انجمن کی خاص منظوری کے نہیں رکھا جائے گا۔ایسی منظوری کے حصول میں یہ صراحت کرنی ضروری ہوگی کہ پیش خص گورنمنٹ وغیرہ کی ملازمت سے برطرف شدہ ہے اور ایسے استعفے جو برطرفی کے قائم مقام ہیں۔اُن کے متعلق بھی یہی قاعدہ چسپاں ہوگا " قواعد صدر انجمن احمدیہ ایڈیشن شاہ قاعدہ نمبر ۴۰۱) اس پر حضور نے مندرجہ ذیل ارشاد فرمایا : یہ نادرست ہے اس میں استعفے والا حصہ ظالمانہ ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ استعفے بعض دفعہ سزا سے بچنے کے لئے ہوتا ہے۔تو افسر استعفیٰ کو نا منظور کر کے کارروائی مکمل کر سکتا ہے۔اگر وہ اپنے فرض کو ادا نہیں کرتا تو اس کی سزا کا رکن کو کیوں ملے۔برخاستگی کی صورت میں بھی غیر معتین قید لگائی گئی ہے۔برخاستگی باقاعدہ ہونی چاہیئے که بوجه ناپسندیدہ حالات کے برخاست کیا گیا ہے۔اگر اس قسم کی برخاستگی ہو تو بغیر منظوری انجمن نوکر نہ رکھا جائے۔لیکن اس صورت میں ملازم کو اپیل کا حق ہونا چاہیئے۔اگر تمام برخاستگی ہو جیسے شست آدمی مل جاتا ہے۔اور ایسی ہی صورتوں میں کوئی وجہ نہیں کہ انجمن سے منظوری لی جائے۔بہر حال جب زیر الزام برخاست ہو۔تو اپیل کا حق ہونا چاہیئے اور صراحتاً اس کا ذکر ہونا چاہیئے۔اور انجمن کو اس کی اطلاع با قاعدہ اور فورا دی جانی چاہیئے " د ریزولیوشن پولی صدر انجین احمدیه)