سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 135

۱۳۵ کارکنوں کا انتخاب سلسلہ کا اصل ذمہ دار خلیفہ ہے اور سلسلہ کے انتظام کی آخری کڑی بھی خلیفہ ہے۔خلیفہ مجلس معتمدین مقرر کرتا ہے اور وہی مجلس شوری مقرر کرتا ہے۔دونوں مجلسیں اپنی اپنی جگہ خلیفہ کی نمائندہ ہیں۔۔۔۔۔میں صاف طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ کارکنوں کا انتخاب سوائے خلیفہ کے اور کسی کے اختیار میں نہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے انتخاب کارکنان کے متعلق تو مشورہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔خلفاء کے وقت میں کبھی اس کے متعلق مشورہ کی پابندی نظر نہیں آتی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت سارے کہتے رہے کہ خالد کو معزول نہ کیا جائے مگر انہوں نے اُن کی بجائے ابو عبیدہ کو مقرر کر دیا۔لے نظارت ملیا ایک تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سے اختلاف کرتے ہوئے جس نے نظارت علیا کو غیر ضروری قرار دیا تھا۔آپ نے فرمایا :- دنیا کی کوئی کانسٹی ٹیوشن ایسی نہیں جس میں کسی ممبر کو سینیٹر ممبر قرار نہ دیا جائے۔کہیں اس کا نام وزیر اعظم رکھ لیا جاتا ہے اور کہیں کچھ اور۔میں نے خصوصیت سے کئی ممالک کی کانسٹی ٹیوشنز کا مطالعہ کیا ہے۔رشین کانسٹی ٹیوشن میں ایک کو ڈکٹیٹر مقرر کر لیا جاتا ہے۔امریکن حکومت میں کوئی خاص سربر مقرر نہیں کیا جاتا۔مگر اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پریذیڈنٹ اپنی ذات میں انتظامی طور پر جوابدہ ہوتا ہے اس لئے علیحدہ طور پر پر ٹیٹر مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔مگر اب اس میں بھی ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۱۹۳۰ ۲۵۰