سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 134
۱۳۴ ناظر امور خارجہ - حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ ناظر ضیافت :- حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ عنہ۔بیرونی ممبران 1 (1) ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ (۲) ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ عنہ رفتہ رفتہ ان نظارتوں کے علاوہ حسب ضرورت صدر انجین احمدیہ کے انتظام میں بعض دوسری نئی نظارتوں کا اضافہ اور شعبوں میں رد و بدل ہوتا رہا۔مثلاً نظارت تعلیم کے ساتھ تربیت کو شامل کر کے اس نظارت کا نام تعلیم و تربیت رکھ دیا گیا۔وہ تمام نظارتیں جو بعد میں مختلف سالوں میں قائم ہوئیں حسب ذیل ہیں :- نظارت تجارت و صنعت - نظارت تعلیم و تربیت - نظارت تالیف و تصنیف - نظارت زراعت - نظارت خدمت درویشان اور نظارت دیوان۔اس کے علاوہ ان نظارتوں میں بعض اور تبدیلیاں بھی عمل میں لائی گئیں۔مثلاً نظارت دعوۃ و تبلیغ کو ختم کر کے اس کی جگہ نظارت اصلاح وارشاد کا قیام عمل میں لایا گیا جس کو تبلیغ کے علاوہ تربیت کا کام بھی تفویض کیا گیا۔نظارت تعلیم و تربیت سے تربیت کا حصہ نکال دیا گیا اور ایک مرتبہ پھر ابتدائی شکل کی طرف لوٹا کر صرف نظارت تعلیم بنا دیا گیا۔اس وقت رائج الوقت نظام جماعت میں بعینہ یہی تنظیم مصروف کار ہے۔آپ نے اپنے وہ سالہ دور خلافت میں میں عمدگی اور قاطعیت کے ساتھ اس نظام کی نگرانی اور رہنمائی فرمائی اور پیش آمدہ نقائص کو دور کرتے ہوئے اسے مسلسل روبہ اصلاح رکھا اس کی داستان بہت طویل ہے۔صدر انجمن احمدیہ کے فیصلوں پر آپ کے ارشادات، علم وحکمت کا خزینہ ہیں جو ہمیشہ جماعت احمدیہ کے نظام کے لئے مشعل راہ ثابت ہوتے رہیں گئے۔بسا اوقات آپ مجلس مشاورت کے موقع پر یا بعض دیگر تقاریر اور خطبات میں بھی جماعت کی عمومی تربیت کی خاطر انتظامی امور پر حالات کے مطابق روشنی ڈالتے رہے، اور مختلف نظارتوں کی رہنمائی فرماتے رہے۔محض نمونے کے طور پر ایسے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔