سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 115
۱۱۵ صاحب سُناتے تھے اُن کے والد بھی بڑے پیر تھے۔لوگ ہمیں آکر سجدے کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں کا نتیجہ خطرناک نکلا۔یہ بڑی نازک راہ ہے مبلغ خادم ہو اور ایسا خادم ہو کہ لوگوں کے دل میں اس کا رعب ہو۔مخدرات کرنے کے لئے اپنی مرضی سے جائے۔۔۔۔اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو اس کی تشفی دینے والا ہمارا مبلغ ہو۔کوئی بیوہ ہو تو حسب ہدایات شریعت اسلامیہ اس کا حال پوچھنے والا ، اس کا سودا وغیرہ لانے والا اور اس کے دیگر کا روبار میں اس کی مدد کرنے والا ہمارا مبلغ ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اُن کے دلوں میں دو چیزیں پیدا ہوں گی۔ادب ہوگا اور محبت ہوگی۔تو کل کا نتیجہ ادب ہوگا اور خدمت کا نتیجہ محبت ہو گی۔مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ ایک طرف اگر ان میں دنائت نہ ہو تو دوسری طرف تکبیر بھی نہ ہو۔لوگ نوکر اس کو سمجھیں گے۔۔۔۔۔۔جو اُن سے سوال کرتا ہو۔جو سوال ہی نہیں کرتا اس کو وہ نوکر کیونکر سمجھیں گے۔۔۔۔۔۔تو یہ دو رنگ ہونے چاہئیں کہ اگر سب سے بڑا خادم ہو تو ہمارا مبلغ ہو۔اور اگر لوگوں کے دلوں میں کسی کا ادب ہو تو وہ ہمارے مبلغ کا ہو۔اس کے لئے وہ اپنے بال مشتریان کرنے کے لئے تیار ہوں، اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہوں۔دُعائیں کرتے رہو پھر مبلغ کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ دعائیں کرتا رہے کہ الہی میں ان لوگوں کو ناراستی کی طرف نہ لے جاؤں۔جب سے خلافت قائم ہوئی ہے میں یہی دعا مانگتا ہوں۔۔۔۔۔۔دیکھو مولوی گرے۔مسلمان بھی کر گئے یہ دو باتیں ہر وقت مد نظر رہنی چاہئیں۔اول کوئی ایسی بات نہ کرے، جس پر پہلے سوچا اور غور نہ کیا ہو۔دوم دُعا کرتا رہے کہ الہی میں جو کہوں وہ ہدایت پر پہنچانے والا ہو۔اگر غلط ہو تو الہی ان کو اس پر نہ چلا اور اگر یہ درست ہے تو الہی توفیق دے کہ یہ لوگ اس راہ پر چلیں۔