سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 114

۱۱۴ مال آتا تھا کوئی کہتا تھا کہ حضور مجھے فلاں بزرگ نے آکر خواب میں کہا اور کوئی کہتا تھا حضور مجھے الہام ہوا۔اللہ پر توکل کرو وہ خود تمہارا کفیل ہوگا میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو خدا تعالے کہیں نہ کہیں سے بھیج دیتا ہے۔خدا تعالے خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے جو دوسری کا محتاج ہو پھر اس کے لئے ایسا نہیں ہوتا۔ہاں اللہ تعالے پر کوئی بھروسہ کرے تو پھر اللہ تعالے اُس کے لئے سامان پیدا کرتا ہے۔حضرت مولوی صاب شنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے کچھ ضرورت پیش آئی میں نے نماز میں دُعا مانگی۔مصلے اُٹھانے پر ایک پونڈ پڑا تھا۔میں نے اسے لے کر اپنی ضرور پر خرچ کیا۔۔۔۔۔۔۔تم کبھی دوسرے پر بھروسہ نہ رکھو۔سوال ایک زبان سے ہوتا ہے اور ایک نظر سے۔تم نظر سے بھی کبھی سوال نہ کرو۔پس جب تم ایسا کرو گے تو پھر خدا تعالے خود سامان کرے گا۔اس صورت میں جب کوئی تمھیں کچھ دے گا بھی تو دینے والا پھر تم پر احسان نہیں سمجھے گا۔بلکہ تمہارا احسان اپنے اوپرہ سمجھے گا۔لوگوں سے تعلقات مبلغ کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خادمانہ حیثیت رکھے۔لوگوں نے یہ نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔بعض نے سمجھا۔کہ نوکر چاکروں کی طرح کام کرے۔یہ مراد نہیں۔اس غلط فہمی کی وجہ سے ملانے پیدا ہوئے جن کے کام مُردے نہلانا ہوا کرتا ہے۔کوئی بیمار ہو جائے تو کتنے ہیں بلاؤ میاں جی کو وہ آکر اس کی خدمت کریں۔کھیتی کاٹنی ہو تو چلو میاں جی گویا میاں جی سے۔۔۔۔۔۔وہ نائی دھوبی جس طرح ہوتے ہیں اس طرح کام لیتے ہیں۔دوسری صورت پھر پیروں والی ہے۔پیر صاحب چار پائی پر بیٹے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ پیر صاحب کے سامنے چار پائی پر بیٹھ جائے حافظ