سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 6
انکار خلافت کا پہلا فتنہ سب سے پہلے آپ کو فتنہ انکا یہ خلافت کا سامنا کرنا پڑا۔جماعت احمدیہ پر ایک کڑا وقت آن پڑا تھا۔قادیان میں حاضر احمدیوں میں سے اگرچہ جمہور نے بڑے اخلاص اور پاک نیت کے ساتھ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ہاتھ پر بیعت کر کے نظام خلافت کے حق میں فیصلہ صادر کر دیا تھا لیکن نظام جماعت کے اہم عہدوں پر ابھی تک منکرین خلافت قابض تھے۔پریس کا بیشتر حصہ ان کے ہاتھ میں تھا۔روپے پیسے کی کنجیاں ان کے پاس تھیں اور ایسی معروف اور بظا ہر عظیم شخصیتیں ان کی ہمخیال تھیں جن کا اثر جماعت پر بلاشبہ بڑا گہرا اور وسیع تھا۔ان میں مولانا محمد علی صاحب پیش پیش تھے جن کو دنیا وی علم کی برتری کے باعث اور انگریزی تفسیر القرآن کا مقصدک م تفویض ہونے کے سبب نیز صدر انجمن احمدیہ کے سیکرٹری ہونے کی وجہ سے جماعت میں ایک غیر معمولی عزت اور احترام کا مقام حاصل تھا۔پھر سلسلہ کے بعض اور اہم افراد جن میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب خواجہ کمال الدین صاحب کیل شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں بھی اس گروہ میں شامل تھے۔اور مولومی محمد علی صاحب کی سر کردگی میں منکرین خلافت کی صف اول میں کھڑے تھے را گرچہ خواجہ صاحب اس وقت ملک سے باہر تھے۔لیکن ان کا اس گروہ سے گہرا تعلق اور بشدت اُن کا ہمخیال ہونا کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی ، ان میں سے اکثر صدر انجمن احمدیہ کے نمبر ہونے کی وجہ سے بھی جماعت میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔انتخاب خلافت کے ساتھ ہی انہوں نے جماعت کے تمام ابلاغ و اشاعت کے ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے سارے ہندوستان میں نظام خلافت کی تردید میں ایک خطرناک اور زہریلے پراپیگینڈا کی مہم بڑی کے ساتھ شروع کر دی بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پراپیگنڈا کا یہ منصوبہ خفیہ طور پر خليفة أسح الاول رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی تیار ہو کر آپ کی وفات کے بعد منظر عام پر آنے کا منتظر تھا۔اس منصوبہ کے تحت بکثرت جماعتوں میں یہ ملک خیال پھیلایا گیا کہ مرزا محمود احمد اور اُن کے رفقاء نے اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کی - سرعت