سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 107

1-6 فائدہ کیا ہوا۔پس آپ اپنے لئے فضل ہی مانگیں۔سکھ۔بہر حال جلدی کچھ ہونا چاہیے۔اس کے لئے آپ کچھ دن مقرر کر دیں ورنہ میں کس طرح سمجھ سکوں گا کہ یہ دعا کا نتیجہ ہے ممکن ہے کہ کوئی اور ایسے اسباب پیدا ہو جائیں یا ئیں کسی وجہ سے بیمار ہی ہو جاؤں۔تو یہ میرے لئے خدا کی ہستی کا کوئی ثبوت نہیں ہوگا۔حضرت۔آپ کا یہ اعتراض اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپ مجھے ج بنائیں اور میں اس بات کا فیصلہ دوں۔چونکہ آپ کے متعلق فلاں واقعہ ظہور پذیر ہو چکا ہے اس لئے آپ خدا تعالے کی ہستی کو ضرور ہی مان لیں۔لیکن میں تو یہ کہہ رہا ہوں آپ یہ دعا کریں کہ اے خدا اگر تو ہے تو مجھ پر اپنی ہستی کا کوئی ثبوت نازل کہ جس سے مجھے یقین ہو جائے کہ فی الواقعہ تو ہے۔پس جب آپ کی تسلی ہو جائے گی خواہ کسی طرح ہو تو یہ سوال خود بخود حل ہو جائے گا۔میں اس کے متعلق کوئی میعا نہیں مقرر کر سکتا۔کیونکہ خدا تعالے کسی کا محکوم نہیں بلکہ احکم الحاکمین ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ ایک گھر کے دروازہ پر جا کہ آوازہ دیں کہ مجھے دومنٹ میں آگ دو۔اور گھر والے دو منٹ میں تو نہیں بلکہ دو گھنٹہ کے بعد آپ کو آگ بھیج دیں۔تو آپ کو اس آگ کے وجود میں تو شک نہیں ہو سکتا کہ چونکہ اتنی دیر کے بعد ملی ہے اس لئے آگ ہی نہیں ہے اسی طرح جب آپ کی مضطربانہ پکار کے جواب میں خدا نے اپنی ہستی کو آپ پر ظاہر کر دیا۔تو بہر حال آپ کو اسے ماننا پڑے گا۔اس پر سیکھ صاحب نے دُعا کرنا منظور کیا اور اُن کی درخواست کے مطابق سورۃ فاتحہ کا ترجمہ ان کو لکھ کر دینے کا حضرت خلیفہ المسیح نے ارشاد فرمایا اور مجلس برخاست ہوئی یہ (الفضل ۲۴ اگست ۹۵ )