سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 106
1-4 اس کے لئے چند علاقے یا دیہات اس طرح مقرر کر لئے جائیں کہ ایک ہمارے حصہ میں آئے۔تو اس سے اگلا اُن کے حصہ میں پھر اگلا ہمارے حصہ میں۔پھر ایک طرف ہم دعا ہے کام لیں اور دوسری طرف وہ مادی اسباب سے کوشش کریں پھر دیکھیں کون سے دیہات میں نمایاں فرق ظاہر ہوتا ہے۔یہاں آکر یکھ صاحب (بالآخر !۔۔۔۔) دھیمے پڑ گئے۔رواہ رے زویہ صداقت خوب دکھلایا اثر !، اور کہنے لگے، کہ مجھے کوئی ایسا طریق بتایا جائے کہ جس سے خدا کا یقین ہو جائے۔اس کے متعلق حضور نے فرمایا۔علیحدگی میں دُعائیں کرو اور کہو اے خدا میں تو تجھے نہیں مانتا کیونکہ مجھے تیرا یقین حاصل نہیں ہے لیکن اور لوگ کہتے ہیں کہ تو ہے پس اگر تو ہے تو میری تسلی کر دے اور مجھے اپنی نسبت یقین کرا دے۔سکھ۔ایسے فیصلے کے لئے کوئی میعاد مقرر ہونی چاہیئے۔اچھا اس طرح ہو کہ میں کسی سخت سے سخت گستاخی کا جو خدا کے متعلق ہو سکتی ہے مرتکب ہوتا ہوں خدا اس پر مجھے سزا دے کہ اپنی ہستی کا ثبوت دے۔سردار صاحب کے اس سوال کا جو جواب حضرت صاحب نے دیا وہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی حیثیت ایک مناظر کی نہیں بلکہ ایک بہی خواہ اور مصلح کی تھی اور بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی آپ کے دل میں تھی۔آپ نے فرمایا حضرت۔جو خدا سخت سے سخت سزا دے سکتا ہے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ انعام بھی کر سکتا ہے آپ کیوں اپنے لئے فضل نہیں مانگتے۔انسان کی دانائی یہی ہے کہ اپنے لئے ہلاکت نہ طلب کرے کیونکہ اگر وہ ہلاک ہو گیا تو پھر مانے گا کون ؟ اور اُسے