سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 58
شخص تھا جس نے یہاں تک بے باکی سے کام لیا کہ حضرت مرزا صاحب کے جھوٹے ہونے کا صرف دعوئی ہی نہیں کیا بلکہ آپ کی پیشگوئی کے مقابل پر ایک اپنی پیشگوئی بھی خدا تعالے کی طرف منسوب کر کے شائع کر دی۔اس پیشگوئی نے ایک نیا اور نہایت ہی دلچسپ عنصر اس مقابلہ میں شامل کر دیا یعنی عملاً اس دعوئی کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی گئی کہ خدا تعالیٰ کی طرف جھوٹی پیش گوئیاں منسوب کرنا کس قدر آسان ہے ! لیکھرام کی یہ پیشگوئی منفی پہلو رکھتی تھی یعنی ہر وہ خوشخبری جو حضرت مرزا صاحب نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے حق میں بیان فرمائی لیکھرام کی پیشگوئی میں خدا تعالی ہی کی طرف منسوب کر کے اس کا رد کیا گیا اور ہر اچھی خبر کے مقابل پر ایک بُری اور منحوس خبر رکھ دی گئی اور اس طرح یہ انتہائی دلچسپ مذہبی مقابلہ اپنے معراج کو پہنچا جبکہ وہ بچہ جس کے بارہ میں شرق و غرب کا بعد رکھنے والی متقابل پیشگوئیاں کی جارہی تھیں، ابھی نیست سے وجود میں نہیں آیا تھا۔بغرض موازنہ لیکھرام کی پیشگوئی بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل اور اس لائق ہے کہ اس کا نہایت غور سے مطالعہ کیا جائے کیونکہ : - F۔اس کے مطالعہ سے رات اور دن ظلمت اور نور کا فرق بڑا کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ایک طرف حضرت مرزا صاحب کی مثبت پیشگوئی رکھیئے دوسری طرف پنڈت لیکھرام کی منفی پیشگوئی اور یہ حقیقت نہ بھولئے کہ یہ دونوں ہی خدائے واحد کی طرف منسوب کی جارہی ہیں، یہ ایک نہایت دلچسپ اور بصیرت افروز موازنہ ہے۔پیشگوئی کا مطالعہ اس لئے بھی اہم ہے کہ اس پیشگوئی کے نتیجہ میں ہمیں اپنے ہی زمانہ میں عملاً یہ موقع نصیب ہو گیا کہ خدا تعالٰی پر جھوٹ بولنے والوں سے خدا تعالیٰ کے سلوک کا مشاہدہ کر سکیں۔ایک خدا کی طرف دو مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی طرف سے دو متضاد اور متخالف پیش گوئیوں کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹی ہے۔- پیشگوئی کا مطالعہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس میں مخالفین کے جذبات کی ساری روح سمٹ کر آگئی ہے۔اگرچہ لیکھرام بحیثیت آریہ لیڈر ہونے کے عیسائی یا مسلمان مخالفین کی نمائندگی نہیں کر سکتا تھا لیکن مرزا صاحب سے خدا تعالٰی کے جس سلوک کی بے قرار تمنا سب مخالفین کے دلوں میں شدت سے مچل رہی تھی