سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 32
باطنی منظر کو دیکھیں جس پر سے حضرت مرزا صاحب نے تمثیل اور استعارہ کے پردے اٹھاتے ہیں جہاں پہلے منظر کو دیکھ کر نظر گھبراتی اور عقل اسے حقیقت کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتی ہے وہاں دوسرا منظر کتنا دیدہ زیب اور نقل کے لئے قابل قبول ہے؟ اور آنحضورصلی الہ علیہ وسلم کی کسی علت دل میں بھاتا ہے کہ چودہ سو سال قبل ہی آج کے زمانہ کی تو ایجاد سواریوں کا نقشہ ہو ہو کھینچ کر رکھ دیا اور مغربی قوموں کے عالمگیر غلبہ کی خبر دے دی۔ج۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ وفات مسیح کا اعلان امت محمدیہ کے لئے مردہ جانفزا تھا یا اندو مبناک خبر ؟ تو ادنی سے تدبر سے بھی یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ میسیج کی موت کا اعلان در اصل اسلام کہ کی زندگی کا پیغام تھا۔یہ خوشی سے اچھلنے اور گودنے کا وقت تھا نہ کہ شدت غم سے سر سینے کا۔عیسائیت کے ہاتھہ میں اسلام کے خلاف سب سے کاری حربہ مسلمانوں کا یہی غلط اعتقاد تھا۔عیسائی پادریوں کے نزدیک حیات مسیح اور رفع الی السما کے عقیدہ کے حسب ذیل طبیعی نتائج مترتب ہوتے تھے : حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے جب مطالبہ کیا گیا کہ آسمان پر چڑھ کر اور پھر (1) وہاں سے کتاب لا کر دکھائیں تو اللہ تعالٰی نے آپ کو یہ جواب دینے کی ہدایت کی۔قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلا بَشَراً رَسُولاً (بنی اسرائیل : ۹۴) یعنی اُن سے کہہ دے کہ میرا رب دان بیہودہ باتوں کے اختیار کرنے سے پاک ہے میں تو بشر رسول کے سوا کچھ نہیں گویا آسمان پر جانا بشریت اور رسالت دونوں سے ارفع تر مقام کا متقاضی تھا۔چونکہ میں نے یہ کام کر کے دکھا دیا لہذا آپ بشر اور رسول دونوں سے بلند تر تھے۔(۲) آپ کی غیر طبعی طویل عمر آپ کی الہی صفات کی نشاندہی کرتی ہے۔(۳) کسی رسول کو خدا نے سخت سے سخت تکلیف کے وقت بھی اپنی طرف نہیں اُٹھایا۔(۴) آخری زمانہ میں امت محمدیہ کو نئی زندگی بخشنے کے لئے آخر مسیح کی ضرورت پیش آتے گی پیس مسیح محسن ثابت ہوتے اور اُمت محمدیہ زیرا احسان - افضل وہی ہو گا جو محسن ہو۔میجیوں کو مسلمانوں پر اس عقیدہ کی بنا پر جو منطقی غلبہ نصیب ہوتا ہے وہ مسلمانوں کیلئے شدید مضرات سے خالی نہیں تھا۔اسی عقیدہ کے طفیل مسلمانوں کا ایک طبقہ تو آمد سیح کی موہوم تمنا لئے خوابوں میں زندگی گزارنے لگا اور دوسرا طبقہ اس کے رد عمل میں اسلام ہی سے بیزار ہو کر دنیا کی طرف ٹھیک گیا یا احادیث کا منکر ہو کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کے ایک بڑے حصہ سے محروم ہو گیا۔پس آخری اور قطعی اور صحیح فیصلہ وہی ہے جو حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ مسیح کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے