سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 31
۳۱ سیاست (DIPLOMACY) کے ذریعہ دنیا میں بڑا فتنہ پیدا کرنے والی تھی۔میں اس تمثیلی انسان کو دیو ہیکل دکھانا اس فتنہ کی شدت اور ہیبت کو ظاہر کرنے کے لئے تھا اور یہ بتانا مقصود تھا کہ اس قوم کی طاقت کے سامنے دیگر قومیں پستہ قد بونوں کی طرح بے زور اور بے حیثیت ہو کر رہ جائیں گی۔تمثیلی زبان میں اس عظیم پیشگوئی کی سب کڑیاں نہایت معنی خیز ہیں۔مثلان پیشگوئی کی رو سے دائیں آنکھ کا بعصات سے محروم دکھایا جانا اور بائیں آنکھ کا بہت بڑی اور روشن دکھانا اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے تھا کہ یہ قوم روحانیت سے بالکل عاری ہوگی لیکن دنیا کے معاملات میں بڑی تیز اور باریک نظر رکھنے والی ہوگی اور مادی قوانین کے مطالعہ سے غیر معمولی استفادہ کرے گی۔اس طرح اس دقبال کی سواری لینی عجوبہ روزگار گدھے کی جو تمثیل بیان کی گئی وہ بھی دراصل اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ دقبال کی قوم سائنس میں غیر معمولی ترقی کرے گی اور آگ اور پانی سے چلنے والی انتہائی تیز رفتار سواریاں ایجاد کرے گی اور انہی سواریوں کے ذریعے وہ ساری دنیا پر غلبہ پائے گی۔- اس پہلو سے جب ہم وقبال کے گدھے کی مبینہ صفات پر غور کرتے ہیں تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ مغرب کی عیسائی اقوام نے جو سواریاں ایجاد کی ہیں، دجال کے گدھے کی تصویر بعینہ اُن پر صادق آتی ہے مثلاً خوراک کے طور پر اگ اور پانی کا استعمال انتہائی تیز رفتار ہونا، وسیع و عریض ہوتا ، سواریوں کا پیٹھ پر بیٹھنے کی بجائے پیٹ میں یعنی اندرونی سیٹوں پر سفر کرنا، روانگی سے قبل بلند آواز نکال کر مسافروں کو متنبہ کر دینا یہ تمام علامتیں جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں دجال کے گدھے کی بیان کی گنتی تھیں، بتمام تفصیل مغرب کی عیسائی قوموں کی ایجاد کردہ سواریوں پر صادق آتی ہیں۔ریل ہو یا سمندری جہاز دونوں کی خوراک آگ اور پانی دونوں کی رفتار غیر معمولی تیز ، دونوں کے مسافر پیٹ کے اندر دونوں کا حجم عظیم پھر مزید تکلف یہ کہ جیسا کہ احادیث نبویہ میں بیان کیا گیا تھا، دونوں اپنے سفر پر روانہ ہونے سے قبل ایک خاص بلند آواز کے ذریعہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم روانہ ہونے والے ہیں۔پس حضرت مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر ان آسمانی معموں کو حل فرمایا اور دنیا کو بتایا کہ کیا درقبال کی پیشگوئی اور کیا اس کو بلاک کرنے والے مسیح کی آمد کی پیشگوئی۔یہ سب استعارہ کی زبان تھی۔پس کوئی منصف مزاج طالب حق یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مسیح موعود کے نزول اور دنبال کے خروج سے متعلق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کی تشریح فرما کر حضرت مرزا صاحب نے اسلام کی ایک نہایت عظیم الشان خدمت سر انجام دی ہے۔قارئین کرام ! ایک طرف آپ اس ظاہری منظر کو دیکھتے جو محض الفاظ کے ظاہری معنے قبول کرنے سے آنکھوں کے سامنے ابھرتا ہے دوسری طرف اس