سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 354
۳۵۴ زندگی کی قبا پہن کر اُٹھتا ہے، کبھی علم قرآن کا چوغہ اوڑھ کر کبھی دنیاوی علوم کی برتری کا تذکرہ کی بن جاتا ہے کبھی سیاست اور تدبر اور معاملہ فہمی کا چرچا۔غرضیکہ جس رخنہ سے موقع ملے یہ مومنوں کی مرصوص صف بندی میں داخل ہو کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک قیادت کی طرف مرکوز جماعتی توجہ کو دو یا تین یا زاید قیادتوں کی طرف پھیر کر وحدت ملی کے نقصان کا موجب بنتا۔روحانی قیادت کے خلاف فتنے کی یہ مختلف شکلیں از منہ گزشتہ میں بھی پائی جاتی تھیں اور خلافت راشدہ کو بھی اس نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس نے یہ شکل اختیار کی کہ آپ کی بزرگی اور علم قرآن کو تو تسلیم کیا جانے لگا لیکن ساتھ ہی یہ شوشہ بھی چھوڑ دیا جاتا کہ دراصل خلیفہ اسی لائق ہوتا ہے کہ نمازیں پڑھاتے درس و تدریس کا کام کرنے بیعتیں لے اور دعائیں کرہے۔اس کا دیگر انتظامی امور وغیرہ سے کیا تعلق ؟ یہ کام تو حساب تجربہ جہاندیدہ اور علوم دنیوی سے آراستہ لوگوں کا ہے۔لہذا جماعت کو ایک سر کی بجائے دوسروں والی قیادت کی ضرورت ہے۔ایک سر تو مرکزی ملا کے فرائض انجام دے اور ایک سراصورت انجمن تمام دیگر امور میں جماعت کی قیادت کرے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس فتنہ نے جو صورت اختیار کی، چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لئے عین ممکن ہے کہ یہ کسی دوسری خلافت میں اس کے بالکل بر نکلس شکل میں ظاہر ہو اور کسی خلیفہ کے بارہ میں یہ پراپیگنڈہ کیا جائے کہ دراصل خلیفہ تو انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور اسی قابلیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جماعت نے فلاں شخص کا انتخاب کیا تھا۔جہاں تک رو خاصیت اور تعلق باللہ کا سوال ہے، فلاں شخص کا کوئی مقابلہ نہیں۔پس انتظامی امور میں بے شک خلیفہ کی اطاعت کرو مگر ارادت مندی اور عقیدت اور دلی محبت فلاں بزرگ سے رکھو۔گویا انجمن کے کام چلانے کے لئے تو خلیفہ ہو اور روحانی قیادت اور رہنمائی کے لئے ایک بت تراش لیا جائے۔لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے، حقیقت خلافت سے متعلق حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے پر معرفت جلالی خطبات اور حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی زندگی بھر کی بھر پور جد وجہد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی ایسی ٹھوس اور گہری تربیت ہو چکی ہے کہ جماعت کی بہت بھاری اکثریت ان فتنہ پر دانوں کے چھپے ہوئے بد ارادوں کو فوراً بھانپ لیتی ہے اور اُن کے دلوں میں پکنے والے بغض و عناد حسد و خود پرستی کے زہریلے مواد سے پناہ مانگتی ہے۔الا مَا شَاءَ اللهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِى لَهُ