سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 353

۳۵۳ علم کی قیام اوڑھ کر آتا ہے اور یہ وسوسہ پھیلاتا ہے کہ تمہارے امام کا علم خام ہے جب کہ اس کی نسبت بہت بڑے بڑے عالم تم میں موجود ہیں۔کبھی وہ ایک خستہ پوش عابد وزاہد بن کر ان کو در غلاتا ہے کہ تمہارے امام سے کہیں بڑھ کر خدا کا پیارا تم میں موجود ہے پیں جو کچھ مانگنا ہے، اس کی معرفت مانگو۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا جماعت احمدیہ پر ایک عظیم احسان ہے کہ اس قسم کے فتنہ پر دانوں کے اطوار و عادات کو بار بار ایسی وضاحت کے ساتھ کھول کر جماعت کے سامنے رکھ دیا ہے کہ اب جب بھی جس بھیس میں بھی فتنہ پر دار حملہ آور ہوتے ہیں، جماعت کی بھاری اکثریت کا ردعمل اس مصرعہ کے مصداق ہوتا ہے کہ ہم سمجھے ہوتے ہیں اُسے جس بھیس میں جو آئے ہاں چند احمق یا روحانی بیمار اور منافق طبع لوگ ضرور ہر بار شیطان کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور قرآن کریم کا یہ پہلا سبق بھول جاتے ہیں کہ سب سے پہلا قریب جو ابلیس نے خود کھایا اور اپنے متبعین اور کو کھلایا وہ انا خیر منہ کا قریب تھا۔حق پرست اور حق شناس بندگانِ خدا کا امتیازی نشان انا خیر منہ کا دعوی نہیں بلکہ انا احقر الغلمان کا اعلان ہوتا ہے۔وہ خود عاجزانہ راہوں پر قدم مارتے ہیں اور دنیا کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں کہ ہے بدتر بنو سہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی عظمت بھی آپ کی انکساری اور عجزمی مضمر تھی۔جزئی فضیلت کی بخشیں یا نفاق کا چور دروازہ۔خلیفہ وقت سے بہتر ہونے کا گھمنڈ رکھنے والے یا اس پر کسی دوسرے کی فضیلت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بعض اوقات پختہ ایمان والوں کے دلوں میں راہ پانے کے لئے تنبہ کی فضیلت کے چور دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی چکنی چپڑی باتیں کچھ اس بنچ پر چلتی ہیں کہ خلیفہ وقت فلاں معاملہ میں تو بہت قابل ہے لیکن فلاں معاملہ کی اسے کوئی واقفیت نہیں۔اس معاملہ میں فلاں شخص کا جواب نہیں وغیرہ وغیرہ یہ فقہ مختلف شکل اختیار کر لیتا ہے کبھی تقریرو تحیر کی فضیلت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے کبھی عبادت گزاری کی صورت میں کبھی ظاہری سادگی اور درویشانہ