سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 331

و خلیفہ مقر کرنے کی وصیت تھی۔مکرم جناب مولوی محمد علی صاحب کا بھی اس بارہ میں یہی نظریہ تھا چنانچہ آپ لکھتے ہیں :- اپنی پہلی بیماری میں یعنی 10 ء میں جو وصیت آپ نے لکھوائی تھی اور جو بند کر کے ایک خاص معتبر کے سپرد کی تھی، اس کے متعلق معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں آپ نے اپنے بعد خلیفہ ہونے کے لئے میاں صاحب کا نام لکھا تھا۔یہ وصیت بعد میں بند کی بند ضائع کر دی گئی ہے - ۲۷ فروری کو آپ آب و ہوا اور ماحول کی تبدیلی کی غرض سے شہر سے یا ہر نواب محمد علی 19 خان صاحب کی کو بھی " دار السلام" میں تشریف لے گئے۔آپ کے خاندان اور آنے جانے والے مہمانوں کے لئے بھی کو بھٹی میں ہی رہائش اور کھانے وغیرہ کا انتظام کیا گیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب آپ کی بیماری کے پیش نظر سخت فکر مند تھے اور تیمار داری اور خدمت کی خاطر شب و روز حاضر اور مستعد رہتے تھے۔ہم رمارچ کو نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی طبیعت سخت خراب ہو گئی اور بے حد ضعف محسوس ہونے لگا۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب پاس بیٹھے تھے۔انہیں فرمایا قلم دوات اور کا غمزے آئیں۔آپ نے لیٹے لیٹے کاغذ ہاتھ میں لیا اور مندرجہ ذیل وصیت لکھی : بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِه نَحْمَدُهُ وَنَصَلَى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمَ وَالِهِ مَعَ الشَّيْلِيم خاکسار بقائمی حواس لکھتا ہے لا اله الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ - میرے بچے چھوٹے ہیں۔ہمارے گھر مال نہیں ان کا اللہ حافظ ہے۔انکی پر درش نیامی و مساکین سے نہ ہو۔کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جاوے۔لائق لڑکے ادا کریں یا کتب، جائداد وقف علی الاولاد ہو۔میرا جانشین منتقی ہو ہر دلعزیز عالم با عمل ہو۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی در گذر کو کام میں لا دے۔میں سب کا خیر خواہ تھا۔وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔والسلام " به وضعیت لکھ کر حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب کو فرمایا کہ دو سنا دیں۔چنانچہ انہوں نے بآواز بلند پڑھ کر سنا دی۔پھر ارشاد فرمایا تین مرتبہ پڑھ کرشنا دو۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ن الحکم / مارچ ۱۹۱۴ نے حقیقت اختلاف ص 1915