سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 330

جہ اکیلا ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان لوگوں کی کوششیں تقوی اللہ پر مبنی نہ تھیں کیونکہ اگر یہ خلافت کے نظام کے سرے سے قاتل ہی نہ تھے یا کم از کم ایک دفعہ اسے تسلیم کرنے کے بعد اس سے برگشتہ ہو چکے تھے تو اُن کو کسی بھی اخلاقی معیار کی رو سے یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ بعض دوسرے لوگوں پر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کریں کہ دراصل وہ بھی خلیفہ مسیح الادل کے بعد ایک دوسرے خلیفہ کے انتخاب کے حق میں ہیں صرف جلد بازی کے فیصلہ سے ڈرتے ہیں۔چونکہ انکار خلافت کی تحریک کے بانی مبانی لاہور سے تعلق رکھے تھے اور لاہور ہی سے شائع ہونے والے گمنام مریکیوں کے ذریعہ جماعت کو نظام خلافت سے برگشتہ کرنے کی کوششیں کی جاتی تھیں حضرت خلیفہ المسیح الاول کو وصال سے دو ہفتہ قبل جب اسی قماش کے ایک ٹریکٹ بعنوان اظہار الحق کے مضمون سے آگاہ کیا گیا تو حضور نے اس بارہ میں بڑے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : ガ لاہور کو جانتا نہیں ؟ وہ ایسا قصبہ ہے کہ جہاں سے مجھ کو ایسے بڑھاپے میں اس قدر تکلیف پہنچی ہے۔میرا دل جلایا گیا۔میں اس وقت بوڑھا ہوں کیا یہ مجھ کو دُکھ دینے اور تکلیف دینے کا وقت تھا ؟ یہ تو مجھ سے محبت کرنے کا وقت تھا۔مجھے اس وقت راضی کرنا چاہیئے تھا۔پھر فرمایا وہ جو کہتا ہے کہ فلاں شخص کو میں نے خلیفہ مقرر کر دیا ہے، غلط ہے۔مجھے کیا علم ہے کہ کون خلیفہ ہوگا اور کیا ہو گا۔کون خلیفہ بنے گا یا مجھ سے بہتر خلیفہ ہوگا ؟ میں نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا۔میں کسی کو خلیفہ نہیں بناتا میرا یہ کام نہیں۔خلیفے اللہ ہی بناتا ہے۔میرے بعد بھی اللہ ہی بنائے گا۔لے حضور کے اس ارشاد میں یہ فقرہ کہ وہ جو کہتا ہے کہ فلاں شخص کو میں نے خلیفہ مقرر کر دیا ہے غلط ہے ایک گذشتہ واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے ا ء میں جب آپ گھوڑے سے گر کر شدید خمی ہوئے تو اس حالت کے قریباً بیس روز بعد آپ نے وصیت پر مشتمل دو لفافے اپنے ایک شاگرد شیخ تیمور ای کے سپرد فرماتے تھے۔ان میں سے ایک کا مضمون تو شیخ تیمور سے بھی خفیہ رکھا گیا۔لیکن کا غذ پر جو تحریر تھی وہ شیخ صاحب کو دکھا دی گئی اور اُن سے بھی اسی کا غذ پر کچھ لکھوایا گیا تھا۔گو بعد ازاں صحت بحال ہونے پر آپ نے اس وصیت کو کسی پر مضمون ظاہر فرمائے بغیر تلف فرما دیا تھا لیکن اس کے متعلق بعض دوستوں کا یہ کہنا تھا کہ اس میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاب - سے الحکم ۲۸ فروری ۱۹۱۳ء