سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 324

ہنسی مذاق بُری چیز نہیں ۲۔مگر کھیل کھیل کے وقت کھیلو۔- مدرسہ میں جب آؤ ایک دوسرے کا ادب کرد۔کم۔دھکم دھکا مت ہو۔۵۔کسی کے کندھے پر ہاتھ مت رکھو۔لڑکوں نے عربی میں ترجمہ تو کیا مگر اس کے ساتھ ہی اپنی اصلاح کرلی۔رات کو آپ لڑکوں کو سٹڈی کی حالت میں دیکھنے کے لئے تشریف لاتے۔الغرض مدرسہ احمدیہ آپ کی پوری توجہ سے بڑھتا چلا گیا اور سلسلہ میں جس قدر کام کرنے والے علما - آج نظر آتے ہیں وہ آپ کی توجہ اور محنت کا نتیجہ ہیں " سے I'" آپ کی سیرت سے متعلق ایک غیر از جماعت صحافی کے تاثرات ۱۹۱۳ مارچ 12 ء میں ایک غیر احمدی صحافی محمد اسلم صاحب امرتسر سے قادیان آئے اور چند دن قیام کر کے واپس چلے گئے۔انہوں نے جماعت کا نہایت قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات پر ایک تفصیلی بیان دیا۔اس نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے متعلق لکھا :- "(حضرت) صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بھی مل کر ہمیں از جد مسرت ہوتی۔صاحبزادہ صاحب نہایت ہی خلیق اور سادگی پسند انسان ہیں۔علاوہ خوش خلقی کے کہیں بڑی حد تک معاملہ فہم و مدیر بھی ہیں۔علاوہ دیگر باتوں کے جو گفت گو صاحبزادہ صاحب موصوف اور میرے درمیان ہندوستان کے مستقبل پر ہوئی اس کے متعلق صاحبزادہ صاحب نے جو رائے اقوام عالم کے زمانہ ماضی کے واقعات کی بنا پر ظاہر فرمائی وہ نہایت ہی زیر دست مدیرانہ پہلو لئے ہوئے تھی۔صاحبزادہ صاحب نے مجھ سے از راہ نوازش بہت کچھ مخلصانہ پیرایہ میںیہ خواہش ظاہر فرمائی کہ میںکم از کم ایک ہفتہ قادیان میں رہوں۔اگرچہ بوجوہ چند در چند میں ان کے ارشاد کی تعمیل سے قاصر رہا۔مگر صاحبزادہ صاحب کی اس بلند نظر نہ مہربانی نظران و شفقت کا از حد مشکور ہوں۔صاجزادہ صاحب کا زہد و تقویٰ اور ان کی وسعت خیالانہ سادگی ہمیشہ یاد رہے گی " کے سے الحکم جوبلی نمبر دسمبر لانه صداے که تاریخ احمدیت جلدم من اهم