سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 323

دن تعلیم ہوتی تھی اور باقی نصف وقت تعلیم خطابت ہوتی تھی۔لڑکوں کے بورڈنگ ہاؤس کی صفائی کا خاص اہتمام ہونے لگا۔ماہ میں ایک دفعہ لازماً آپ خود وقتاً فوقتاً تقریریں فرماتے اور اُن کو اُبھارتے۔مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں کے لئے کھیلنے کے لئے کوئی الگ فیلڈ نہ تھی۔آپ نے اُن کے لئے فیلڈوں کا انتظام کیا تا کہ آئندہ بننے والے علما تصرف ملاں ہی نہ ہوں بلکہ ہر طرح چاق و چوبند ہوں۔مدرسہ بائی کے پاس تو ایک لائبریری تھی جس سے طالب علم فائدہ اٹھاتے تھے مگر مدرسہ احمدیہ کے پاس کوئی لائبریری نہ تھی۔آپ نے اس ضرورت کو سخت محسوس کیا اور اپنی لائبریری سے قیمتی کتابوں کا ایک بڑا مجموعہ جس میں السلان مصر کے پرچے بھی تھے مرحمت فرمایا۔اور مزید روپیہ بھی انجمن سے منظور کروایا۔طالب علم عربی کتابوں کو پڑھتے تھے اور فائدہ اُٹھاتے تھے۔آپ نے مدرسہ احمدیہ کی چوتھی جماعت کو اپنے لئے مخصوص کر لیا اور روزانہ تین چار گھنٹے اپنا وقت دیتے تھے۔میں بھی اس کلاس کا طالب علم تھا اور اپنے بخت پر تحر کرتا ہوں کہ مجھے بھی آپ سے نسبت تلمذ حاصل ہے۔آپ اپنی کلاس کے طالب علموں کی ہر طرح سے تربیت فرماتے تھے۔یہ مدرسہ احمدیہ کا موضوع بہت لمبا ہے سر دست اختصار سے اس قدر لکھتا ہوں کہ تعض طالب علم مدرسہ میں گرفتہ پہن کر آجاتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے ترجمہ میں ایک فقرہ دیا۔جو یہ تھا : مدرسہ میں بغیر کوٹ پہنے نہیں آنا چاہتے۔اس فقرہ سے سب لڑکے سمجھ گئے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔دوسرے دن لڑکے کوٹ پہن کر آگئے۔تربیت کا یہ ایک عجیب پہلو تھا۔ایک دن سکول میں آپ دیر سے تشریف لائے۔لڑکے با ہم ہنسی مذاق کرنے لگے۔اسی حالت میں آپ تشریف لے آئے۔آپ نے اس وقت تو کچھ نہ فرمایا تیسرے دن اُردو سے عربی کرنے کا جب کام دیا تو حسب ذیل فقرات اس میں درج تھے :-