سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 310

میں تیرے آگے کچھ عرض کرنے کی جرات کروں۔میں کچھ نہ تھا تو نے مجھے بنایا۔میں عدم میں تھا تو مجھے وجود میں لایا۔میری پرورش کیلئے اربعہ عناصر بتاتے اور میری خبر گیری کے لئے انسان کو پیدا کیا جب میں اپنی ضروریات کو بیان تک نہ کر سکا تھا تو نے مجھے پر وہ انسان مقرر کئے جو میری فکر خود کرتے تھے۔پھر مجھے ترقی دی اور میرے رزق کو وسیع کیا۔اے میری جان! ہاں اے میری جان! تو نے آدم کو میرا باپ بننے کا حکم دیا اور حوا کو میری مان مقرر کیا۔اور اپنے غلاموں میں سے ایک غلام کو جو تیرے حضور عزت سے دیکھا جاتا تھا اس لئے مقرر کیا کہ وہ مجھ سے نا سمجھ اور نادانتے اور کم نہم انسان کے لیئے تیرے دربار میں سفارش کرے اور تیرے رحم کو میرے لئے حاصل کرے۔میں گناہ گار تھا تو نے ستاری سے کام لیا۔میں خطا کار تھا تو نے غفاری سے کام لیا۔برا کے تکلیف اور دُکھ میں میرا ساتھ دیا ب کبھی مجھ پر مصیبت پڑی تو نے میری مدد کی اور جب کبھی ہیں گمراہ ہونے لگا تو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔باوجود میری شرار توان کے تو نے چشم پوشی کی۔اور باوجود میرے دُور جانے کے تو میرے قریب ہوا۔میں تیرے نام سے غافل تھا مگر تو نے مجھے یاد رکھا۔ان موقعوں پر جہان والدین اور عزیز و اقربا اور دوست و غمگسار مدد سے قاصر ہوتے ہیں تو نے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھایا اور میری مدد کی۔میں غمگین ہوا تو تو نے مجھے خوش کیا۔میں افسردہ دل ہوا تو تو نے مجھے شگفتہ کیا مین رویا تو تو نے مجھے بنایا۔کوئی ہو گا جو فراق میں ترقیا ہو مجھے تو تو نے خود ہی چہرہ دکھایا۔تو نے مجھ سے وعدے کئے اور پورے کئے اور کبھی نہیں ہوا کہ تجھ سے اپنے اقراروں کے پورا کرنے میں کوتاہی ہوتی ہو میں نے بھی تجھ سے وعدے کئے اور توڑے مگر تُو نے اسکا کچھ خیال نہیں کیا۔میں نہیں دیکھتا کہ مجھے سے زیادہ گناہ گار کوئی اور بھی ہو اور میں نہیں جانتا کہ مجھ سے زیادہ مہربان تو کسی اور گنہگار پر بھی ہو۔