سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 307

۔اور کاموں کا موازنہ کرنے کی اس وقت طاقت نہ تھی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اسی محبت کی وجہ سے جو خلیفہ اول نہ مجھ سے کیا کرتے تھے میں نور الدینیوں میں سے تھا۔ہم نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی دریافت کیا اور آپ نے ہمارے خیال کی تصدیق کی۔غرض مولوی عبدالکریم صاحب سے کوئی زیادہ تعلق مجھے نہیں تھا۔سوتے اس کے کہ میں اُن کے پر زور خطیبوں کا مداح تھا اور ان کی محبت اور ان کی حُب مسیح موعود کا معتقد تھا مگر جونہی آپ کی وفات کی خبر میں نے سنی میری حالت میں ایک تغیر پیدا ہو گیا۔وہ آواز ایک بجلی تھی جو میرے جسم کے اندر سے گزر گئی جس وقت میں نے آپ کی وفات کی خبر سنی مجھ میں برداشت کی طاقت نہ رہی۔دوڑ کر اپنے کمرہ میں گھس گیا اور دروازہ بند کر لیا۔پھر ایک بے جان لاش کی طرح چارپائی پر گر گیا۔اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔وہ آنسو نہ تھے ایک دریا تھا۔دنیا کی بے ثباتی مولوی صاحب کی محبت میسج اور خدمت مسیح کے نظارے آنکھوں کے سامنے پھرتے تھے۔دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کاموں میں یہ بہت سا ہاتھ بناتے تھے۔اب آپ کو بہت تکلیف ہوگی۔اور پھر خیالات پر ایک پردہ پڑ جاتا تھا اور میری آنکھوں سے آنسووں کا دریا بہنے لگتا تھا۔اس دن نہ میں کھانا کھا سکا نہ میرے آنسو تھے حتی کہ میری لا ابالی طبیعت کو دیکھتے ہوئے میری اس حالت پر حضرت مسیح موعود علیه السلام کو بھی تعجب ہوا اور آپ نے حیرت سے فرمایا کہ : " محمود کو کیا ہو گیا ہے۔اس کو تو مولوی صاحب سے کوئی ایسا تعلق نہ تھا یہ تو بیمار ہو جائے گا۔" خیر مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات نے میری زندگی کے ایک نئے دور کو شروع کیا۔اسی دن سے میری طبیعت میں دین کے کاموں اور سلسلہ کی ضروریات میں دلچسپی پیدا ہونی شروع ہوئی اور وہ بیج بڑھتا -