سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 306
حضرت مسیح موعود علیه السلام کے صحابہ سے آپ کی گہری محبت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب بعد کے زمانہ میں کبھی کبھی لطیفہ کے کے طور پر حسب ذیل شعر سنایا کرتے تھے۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں میرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا۔۔مگر آپ کے بچپن کا ایک واقعہ اس شعر میں ملبوس جذبات کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔آپ جسے چاہتے تھے اس کے چاہنے والوں کو بھی چاہتے تھے۔اس کے خدام اور فدائیتوں سے بھی گہری محبت کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کی محبت اور عشق کا یہ عالم تھا کہ جتنا جتنا کسی کو آپ کے قریب پایا اسی قدر اس کی طرف کھینچتے چلے گئے۔آپ کی محبت کا رخ متعین کرنے میں یہ اصل کبھی شعوری طور پر اور کبھی غیر شعوری طور پر بے خطا کام کرتا تھا۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل واقعہ دلچسپ مطالعہ کا مواد پیش کرتا ہے :- مولوی عبد الکریم صاحب بیمار ہوئے۔۔۔ایک دفعہ یخنی لے کر میں مولوی صاحب کے لئے گیا تھا۔اس کے سوا یاد نہیں کہ کبھی گیا ہوں۔اس زمانہ کے خیالات کے مطابق یقین کرتا تھا کہ مولوی صاحب فوت نہیں ہو سکتے۔۔۔مولوی عبد الکریم صاحب کی طبیعت تیز تھی۔ایک دو سبق اُن کے پاس الف لیلی کے پڑھے پھر چھوڑ دیتے۔اس سے زائد اُن سے تعلق نہ تھا۔ہاں اُن دنوں میں یہ کشیش خوب ہوا کرتی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دایاں فرشتہ کونسا ہے اور بایاں کونسا ؟ بعض کہتے مولوی عبد الکریم صاحب دائیں ہیں بعض حضرت اُستاذی المکرم خلیفہ اول کی نسبت کہتے کہ وہ دائیں فرشتے ہیں۔علموں