سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 273
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف گیا۔چونکہ وہ ایک عظیم الشان نبی تھے۔اس لئے انہوں نے بھی ایمان کا اس قسم کا ایک نمونہ دکھایا ہے جو کہ ان کی طہارتِ نفس کی وجہ سے بہت ارفع ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت جبرائیل آپ کے پاس آئے اور کہا کہ کچھ خواہش ہو تو فرمایئے۔آپ نے نہایت بے توجہی سے جواب دیا کہ کچھ نہیں میری تم سے کچھ غرض نہیں۔انہوں نے دوبارہ کہا کہ خدا تعالیٰ سے کچھ پیغام ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کوئی واسطہ پسند نہیں۔انہوں نے سہ بارہ کہا کہ اچھا تو دُعا کیجئے آپ نے جواب دیا کہ وہ آپ نہیں دیکھتا جو میں اُسے سناؤں کہ میرا کیا حال ہے ؟ شبحان اللہ کیسا ایمان ہے اور کیسا غنی ہے! اسی کا نتیجہ ہے کہ قرآن شریف میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کچھ ذکر آئے وہیں قرآن شریف کی عبادت محبت سے بھری ہوئی معلوم ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ محب اپنے محبوب کا ذکر کر رہا ہے خیر بات لمبی ہوتی ہے۔اس لئے ہیں اور زیادہ واقعات نہیں لکھتا۔کیونکہ اور بہت کچھ سنانا ہے۔یہاں کی بعض قابل دید عمارات بھی دیکھیں اور ایک چھوٹی سی ندی جو نظارہ قدرت کو عجب طرح خوبصورت کر کے دکھاتی ہے وہ بھی دیکھی۔یہاں کے راجہ صاحب کو سیر دسیاحت کا بہت شوق ہے اور وہ جس ملک میں جاتے ہیں، وہاں کی کچھ چیزیں لا کر اپنے ہاں رکھتے ہیں۔اگر وہ اس سے ایک ناصح کا کام لیویں تو میرے خیال میں کئی واسطہ وہ کام نہیں کر سکتے جو دہ بے جان چیزیں کر سکتی ہیں۔یہاں بعض غیر احمدی صاحبان بھی ملاقات کو آتے جن میں سے ایک صاحب اہل ہنوں میں سے تھے۔جو وہاں مختاری کا کام کرتے ہیں۔اور انہوں نے لیکچر کے لئے کہا لیکن چونکہ میں نے دوسرے ہی دن لاہور جانا تھا اس لئے زیادہ ٹھرنا مشکل تھا۔دوسرے دن میں لاہور کی طرف روانہ ہوا اور والدہ صاحبہ دہلی کی طرف - دو تاریخ کو میں لاہور پہنچا اور برادرم مکرم سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر ٹھہرا۔تیسرے دن یعنی چار تاریخ کو لیکچر شروع ہوئے۔لاہور کے بہت سے معززین جلسہ میں آئے تھے جس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالی اندر ہی اندرلوگوں کے دلوں کو اس طرف پھیر رہا ہے ورنہ ایک دن وہ تھا کہ خود حضرت اقدس کی تحریر ہے لوگ بھاگتے تھے اور آج آپ کے خدام کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں۔یہی وہ لاہور ہے