سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 272
۲۷۲ مرسل کی زندگی کو دیکھ لیا ہے کہ وہ کیسی پاک اور صاف تھی اور مشاہدہ کر لیا ہے کہ وہ گنا ہوں سے کیسا پاک تھا۔بچنا نچہ اُن کا یہی اخلاص اور محبت ہی حضرت صاحب کو وہاں کھینچ کر لے گیا۔اور یہی ہمیں بھی وہاں لے گیا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص سے ہمیں محبت ہے۔اس کے متعلقین سے بھی قدرتاً محبت ہوتی ہے۔اس لئے سیچی دوستی کی نشانی میسی سمجھی گئی ہے کہ ایک دوست دوسرے دوست کے مال وجان اور عزیز و اقارب کا اُسی طرح محافظ ہو اور چاہنے والا ہو جیسے کہ وہ اپنے مال و جان کی حفاظت کرتا اور اپنے عزیز و اقارب کو چاہتا ہے۔پس وہ شخص جس کے ہاتھ میں ہاتھ کرتا دے کر یہ اقرار کیا ہو کہ ہم تجھ سے تمام دنیا کے رشتوں اور دوستیوں سے بڑھ کر سلوک کریں گے اس کی ہر ایک چیز کیوں پیاری نہ ہو۔غالباً یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کو ہم سے ایک خاص محبت اور اخلاص ہے بلکہ میں کہ سکتا ہوں کہ یہ محض اخلاص ہی اخلاص ہے اور نفسانی خواہشیں ان میں بالکل نہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت صاحب نے ان کو ایک موقع پر لکھا۔میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ لوگ قیامت کو بھی میرے ساتھ ہوں گے کیونکہ دنیا میں بھی آپ نے میرا ساتھ دیا ہے۔اس جگہ میں نے کامل ایمان کے کئی نمونے دیکھے اور سُنے۔لیکن ایک بات نے تو مجھ پر وہ اثر کیا کہ میری روح کو قول بلٹی یاد آگیا اور اگر چہ اس کا لکھنا شاید عام لوگوں کے لئے مفید ثابت نہ ہو لیکن بعض با مذاق لوگوں کے لئے جن کو خاص ذوقی بات عام دلائل سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے، شاید مفید ثابت ہو۔منشی محمد اروڑا صاحب جو حضرت صاحب کے نہایت پرانے مریدین میں سے ہیں اور حضرت اقدس سے خاص محبت جو شاید دوسری جگہ بہت کم ملے رکھتے ہیں۔انہوں نے شنایا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے مجھ سے پوچھا کہ سب لوگ دُعا کے لئے کہتے ہیں اور آپ بالکل نہیں کتے اس کی کیا وعیہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔میں آپ خدا تعالیٰ سے مانگ لیتا ہوں اور اس وقت آپ پر اس کے جو احسانات اور کریم ہیں اُن کو زیر نظر رکھ لیتا ہوں اور وہ کام خود بخود ہو جاتا ہے مجھے اس سے ایک تو اُن کے ایمان پر خیال گیا کہ کیا ایمان ہے! اور خُدا تعالیٰ کے رحموں پر کس قدر بھروسہ۔ہے اور دوسرے حضرت اقدس کی سچائی پر کیا ایمان ہے! اور دوسری طرف میرا خیال