سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 261
سے خالی ثابت ہوتا ہے اور چونکہ میں عقلی دلیل سے ہی فائدہ اٹھا سکتا ہوں۔اس لئے ضرور ہے کہ یا تو سرے سے میسج کے کلمہ ہونے کا ہی انکار کر دوں یا آپ کے قول کو مانتے ہوئے اسے کلمہ تو قرار دوں۔سیکن علم سے خالی۔پادری صاحب بے شک عقل تو یہی کہتی ہے لیکن انجیل اس بات کو نہیں مانتی۔طالب حق تو کیا عقل کی رو سے تثلیث کا ماننا نا ممکن ہے۔پادری صاحب۔اس میں کیا شک ہے کہ عقل انسانی ہستی باری کی گنہ تک نہیں پہنچ سکتی طالب حق جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے عقل ہی ایک سمجھ کا ذریعہ بنایا ہے تو بغیر عقل کے ہم کسی بات کو مان کیونکر سکتے ہیں۔بے شک بعض باتیں عقل سے بالا ہوتی ہیں لیکن کوئی انہی مذہب اپنے پیروؤں سے خلاف عقل باتیں نہیں منواتا نہیں اس بات میں آپ سے متفق ہوں کہ ذات الہی کی کنہ کو پہنچا انسانی عقل کا کام نہیں کیونکہ وہ محدود ہے۔مگر یہ ضروری ہے کہ جن باتوں کا ماننا مدار نجات ہے وہ انسانی عقل کی پہنچ کے اندر ہونی چاہئیں کیونکہ اگر بعض ایسی باتیں مدار نجات قرار دے دی جائیں جو عقل کے خلاف ہوں تو انسان کے لئے نجات کا دروازہ بالکل بند ہو جائیگا۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری ہے تو ہستی باری کا ثبوت ضرور ایسا ہونا چاہتے جو عقل کے خلاف نہ ہو۔۔۔۔پس چونکہ تثلیث کا مسئلہ آپ کے مذہب کی رُو سے جزو اعظم ہے اس لئے یہ ضرور کی ہے کہ یہ ایسے پیرایہ میں بیان کیا جاتا جس کو عقل انسانی سمجھ کہتی۔کو پادری صاحب بے شک عقل یہی کہتی ہے لیکن تثلیث کے مانے سے پہلے انجیل کا ماناضروری۔طالب حق انجیل کو انسان تب مانے جب اصول مسیحیت ثابت ہو جائیں۔ان مسائل کے حل ہونے سے پہلے انسان انجیل کو کب مان سکتا ہے ؟ پادری صاحب جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے انجیل کے ماننے سے پہلے ان مسائل کا سمجھنا مشکل ہے۔لے لله تشعند الازبان جلد ۶ نمبر شده صد ۲۸۰ تا حث ۲۹