سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 260

بہت فرق ہے۔دوسری ذات قرار دیں۔پھر علاوہ ازیں آپ صرف اس کلام کو جس کے واسطے سے دنیا پیدا کی گئی۔کیوں خدا کہتے ہیں۔کیوں توریت اور انجیل اور دیگر صحفِ انبیا کو خدا قرار نہیں دیتے۔۔۔پادری صاحب (مسکرا کر) نہیں نہیں ! ہم انجیل توربیت کو خدا نہیں مانتے۔ہمارے مذہب میں ایسا جائز نہیں۔اور ہم تو کلام کو صفت قرار نہیں دیتے بلکہ ایک ذات قرار دیتے ہیں۔طالب حق تو آپ کلام کو کیا سمجھتے ہیں۔پادری صاحب قدرت ! طالب حق جناب نے فرمایا ہے کہ ہم کلام کو قدرت سمجھتے ہیں۔لیکن آپ کو یا د رکھنا چاہیئے کہ قدرت بھی کوئی علیحدہ ذات نہیں۔مثلاً میرے ہاتھ میں پکڑنے کی قدرت ہے۔یہ قدرت میرے ارادے کے ماتحت ہے۔اس میں خود کوئی علم نہیں۔جب ہاتھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو پکڑا تو وہ پکڑ لیتا ہے۔۔لیکن خود میرے ہاتھ کے پکڑنے کی قدرت میں تو کوئی علم نہیں۔اگر آپ سچ کو قدرت بھی قرار دیں اور کلام کا دوسرا نام قدرت رکھیں۔تب بھی تو سیح کوئی علیحدہ ذات قرار نہیں پا سکتا۔ورنہ ہر ایک چیز میں کچھ نہ کچھ قدرت ہوتی ہے تو اس طرح ہر ایک ذات کو دو ذرا میں قرار دینا پڑے گا۔اور دوسرے اس صورت میں یہ بھی لازم آتا ہے کہ میسج علم اور ارادے سے خالی تھا کیونکہ جیسا کہ میں ثابت کر آیا ہوں کہ قدرت صفت علم وارادہ کے بھی ماتحت ہوتی ہے۔۔پادری صاحب۔ہم تو میسج کو علم سے خالی نہیں سمجھتے۔میسج ضرور علیم ہے۔طالب حق یہ بے شک درست ہے کہ آپ میسج کو ایک علیم بستی مانتے ہیں اور گو کو میسج انجیل میں اپنے علم کا منکر ہے مگر اس وقت مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں میں آپ ہی کی بات کو مانتا ہوں اور چونکہ مسیح خدا ہے۔اس لئے ہوتا بھی ایسا ہی چاہتے لیکن یہ اعتقاد کی بات ہے۔اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں مسیح کو اگر کلمہ مان لیا جائے تو اول تو وہ ایک نصفت اور پھر علم