سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 244

هم ۲۴۷ سے اس کے متعلق بات کروں اور حب موقع ملا تو میں نے کہا کہ یہ چندے کیا ہماری جائیداد تھی ؟ یہ تو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ہیں ان میں سے حصہ لینے کا کسی کو کیا حق ہے ؟ ایک اور دوست نے غالباً حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے منشا سے یہ تجویز پیش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے لئے گزارہ مقرر کرنا چاہیے۔لیکن آپ نے کہا ہم اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔یہ جواب سن کر اس دوست نے کہا پھر آپ لوگوں کے گزارے کی کیا صورت ہوگی۔آپ نے جواب دیا ہم بندوں کے کیوں محتاج ہوں اگر اللہ تعالی کا نشا زندہ رکھنے کا ہوگا تو وہ خود انتظام کر دے گا اور اگر اس نے مارتا ہے تو وہ موت زیادہ اچھی ہے جو اس کے منشا کے ماتحت ہو۔ادھر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ آپ کی دینی مصروفیات اور مالی مشکلات سے بے خبر نہ تھے۔چنانچہ حضور نے ایک دن آپ کو بلایا اور کہا ہم آپ لوگوں کو اپنے پاس سے کچھ پیش نہیں کرتے بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے جس کے ماتحت میں نے گزارہ کی تجویز کی ہے۔اور الہام میں رقم تک مقرر ہے اس لئے بلا تمنا اور بلا مطالبہ خدا کے منشا کے مطابق جو گزارہ خلیفہ وقت مقرر کرے اس کے قبول کر لیتے ہی میں برکت ہے۔چنانچہ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کے مطابق خلیفہ وقت کے ارشاد کے سامنے سر تسلیم تم کر دیا۔اور اللہ تعالیٰ کی منشا اور خلیفہ وقت کے حکم کے مطابق یہ گزارہ قبول کر لیا۔لیکن باوجود ذائی ضروریات اور مالی مشکلات کے آپ اس مقررہ گزارہ سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی بقا کے لئے کھلے ہاتھوں خرچ کرتے رہے۔انجمن کے اس مقررہ گزارہ پر ہی آپ کے اخراجات کا مدار نہ تھا بلکہ زمیندارہ یا دوسرے ذرائع سے جو تھوڑی بہت آمدنی ہوئی اس کا بھی ایک معقول حصہ آپ اللہ تعالی کی راہ میں پوری بشاشت کے ساتھ خرچ کرتے رہتے۔پہلے رسالہ تشحی الاذہان کے اخراجات کا ایک معتد بہ حصہ اپنی گرہ سے ادا کرتے رہے۔پھر جب اخبار الفضل جاری کیا تو اس کے ابتدائی اخراجات بھی خود اُٹھائے۔مقررہ جماعتی چندوں میں باقاعدہ حصہ لینے کے علاوہ اس زمانہ میں پیش آمدہ دوسری قومی اور ملکی ضروریات میں بھی حسب استطاعت حصہ لیا۔مہمانداری تو آپ کے خاندانی اوصاف میں شامل تھی۔پھر جس قدر بھی انڈین یا بیرون ملک آپ نے علمی، تفریحی یا حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے حکم سے تبلیغی سفر کئے : ان میں اپنی گرہ سے خرچ کیا اور باوجود حق کے جماعت کے بیت المال سے ایک پیسہ وصول کرنے کے بھی روا دار نہ بنے۔