سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 243

۲۴۴۳ اخبار جاری کیا جس کا نام الفضل ہے اور جو اس وقت جماعت احمدیہ کا قومی آرگن ہے۔اور قادیان سے روزانہ شائع ہوتا ہے پھر جماعت میں تبلیغی روح پھونکنے کے لئے اور رابطہ اخوت و محبت قائم کرنے کے لئے آپ نے انصار اللہ کی جماعت قائم کی ہے مالی مشکلات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات نے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مالی مشکلات ذرائع آمد کی کمی اور زمیندارہ انتظام کی کمزوری کو بالکل نمایاں کر دیا تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اصل ورثہ آپ کی روحانی برکتیں تھیں نہ کہ دنیا دی مال و منال - حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالی نے تربیت کا نہایت لطیف ملکہ اور گہری فراست عطا فرمائی تھی چنانچہ مالی مشکلات کے اس صبر آزما دور میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے خیالات اور جذبات کی رو کو اصل حقیقت کی طرف مبذول کرنے کی خاطر اپنے لخت جگر کا ہاتھ تھام کر اسے بیت الدعا یعنی اُس چھوٹے سے حجرہ میں لے گئیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تخلیہ میں اپنے رب کی عبادت اور مناجات کیا کرتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں والی کاپی نکال کر آپ کے سامنے رکھ دی اور کہا میں سمجھتی ہوں میں تمہارا سب سے بڑا ور نہ ہے کہیے لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب خود بھی تو یہی سمجھتے تھے اور اس کے برعکس کسی خیال کا گزرتیک بھی کبھی آپ کے دل و دماغ سے نہ ہوا تھا۔ہاں ماں نے نہایت پیارے انداز میں اپنا فرض ادا فرما دیا اور خدا اور اس کے رسول کے حضور سرخرو ہو گئی۔جہاں تک حضرت صاحبزادہ صاحب کے ذاتی خیالات کا تعلق ہے نہ کبھی پہلے آپ نے سلسلہ کے اموال کو اپنا سمجھا نہ بعد میں۔ہاں ہمیشہ اپنے اموال کو سلسلہ احمدیہ کی ملکیت سمجھتے رہے۔ایک مرتبہ بعض نا سمجھ احمدیوں نے بظاہر اخلاص کے رنگ میں آپ کو مشورہ دیا کہ جو چندے آتے ہیں وہ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہی آتے ہیں اس لئے آپ مطالبہ کریں کہ ان چندوں میں سے ہمارا حصہ بھی مقرر ہونا چاہیے۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں اس وقت بخیر تھا مگر یہ مشورہ مجھے اتنا بُرا معلوم ہوا کہ میں نے کمرے کے باہر ٹہلنا شروع کر دیا کہ مجھے جو نہی موقع ملے ہیں والدہ ے روزنامہ "الفضل قادیان در نومبر شاه صده مه له الفضل له الفضل ۲۲ اکتوبر ۱۹۵۵ ء