سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 215

۲۱۵ " کو خدامت قرار دو کہ عزت دینا اور ذلیل کرنا خدا کے اختیار میں ہے نہ کہ تمہارے مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا - - کسی انسان کی زندگی کا بھی اعتبار نہیں ہوتا مگر میں تو خصوصاً ހ بیمار رہتا ہوں اور چوتھے پانچویں دن مجھے حرارت ہو جاتی ہے اور سخت سر درد کا دور ہوتا ہے۔چنانچہ اس وقت بھی جبکہ میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں میرے سرمیں درد ھے اور بدن گرم ہے اور صرف خدا ہی کا فضل ہے کہ میں یہ چنار سطریں لکھنے کے قابل ہوا ہوں اور علاق ازمین مجھے اور بھی کئی بیماریاں ہیں۔میرا سینہ کمزور ھے۔میرا جگر ہمار ھے۔میرا معدہ اچھی طرح غذا ہضم نہیں کر سکتا۔تمہیں کیا معلوم ھے که مین کل تک زندہ رہوں گا یا نہیں کیا جانتے ہو کہ نیا سال مجھے پر چڑھے گا یا نہیں ؟ تم کیوں خواہ نخواہ یوسف علیه السلام کے بھائیوں کی طرح کہتے ہو : يَخْلُ لَكُم وَجْهُ أَبِيكُم - میرے تو اپنے پیارے دوسری دنیا میں ہیں۔میرے لئے تو یہ دنیا خالی ہے میرا مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس دنیا میں ہے۔میرا احمد اُسی دنیا میں ہے۔کیا وہ لوگ زندہ رہے کہ میں رہوں گا۔میرے پاس اعمال کا ذخیرہ نہیں اور میرا ہاتھ خالی ھے۔لیکن خدا کے فضل سے امیدوار ہوں کہ نہ مجھے اُن کے خدام میں جگہ دے کیونکہ اُن کے قریب کے بغیر جنت بھی میرے لئے بھیانک ہے۔میں تم سے گھبرانا نہیں۔میں تمہارے جملوں سے ڈرتا نہیں کیونکہ میرا خدا پر بھروسہ ہے۔لیکن مجھے اگر غم ہے تو اس بات کا کہ قوم میں فتنہ نہ ہو اور یہیں غم میرے دل کو کھائے جاتا ہے۔مگر مجھے امید ھے کہ خدا تعالی اس جماعت کو بچائے گا اور اس کی مدد کرے گا کیونکہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ ایک پودا اپنے ہاتھ سے لگا کر پھر اسے سو رکھنے دے۔ان استلا کے ایام ہیں جو گزر جائیں گے یا اے (الفضل ۱۹ نو بر شانه ) یہ خط اس مضمون پر حرف آخر ہے اور اس کے بعد کسی مزید تنصرہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی •