سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 214

۲۱۴ قبرستان کی طرح خموش ہیں۔میرے دوست مجھے اس وقت معاف فرمائیں میں ان کی محبت کا شکر گزار ہوں لیکن میں کیا کروں کہ جہان میں ہوں وہاں وہ نہیں ہیں۔میں ان مہربانوں کے مقابلہ میں جو مجھے آئے دن ستاتے رہتے ہیں ان کی محبت کی قدر کرتا ہوں۔اُن کے لئے دُعا کرتا ہوں۔اپنے رہے سے اُن پر فضل کرنے کی درخواست کرتا ہوں لیکن باوجود اس کے میں تنہا ہوں۔میری مثال ایک طوطے کی ھے جن کا آقا اس پر مہربان ہے اور اس سے نہایت محبت کرتا ہے اور وہ طوطا بھی اس کے پیار کے بدلے میں اس سے انس رکھتا اور اس کی جدا تھے کو نا پسند کرتا ہے مگر پھر بھی اس کا دال کہیں اور ھے اس کے خیال کیں اور ہیں۔میرے آقا کا دلبند میرا مطالع امام حسین تو ایک دفعہ کربلا کے ابتلا میں مبتلا ہو الیکن میں تو اپنے والد کی طرح نہیں کہتا ہوں کہ ے کر بلاتی است سیر بر آنم صد حسین است در گریبانم ارے نادانو! کیا تم اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر میرا خدا مجھے بڑا بنانا چاہے تو تم میں سے کون ھے جو اس کے فضل کو رد کر سکے اور کون ھے۔۔جو میرے مولیٰ کا ہاتھ پکڑ سکے۔وإِنْ يَرِدُكَ بِخَيْرِ فَلاَ رَاد لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرحيمة لل اور اگر وہ مجھے عزت دینا چاہے تو کون ھے جو مجھے ذلیل کر سکے اور اگر مجھے بڑھانا چاہے تو کون ہے جو مجھے گھٹا سکے اور اگر وہ مجھے اونچا کرنا چاہے تو کون ہے جو مجھے نیچا کر سکے اور اگر وہ مجھے اپنا قرب عطار کرنا چاہے تو کون ہے جو مجھے اس سے بعید کر سکے اور اگروہ مجھے اپنے پاس بٹھاتے تو کون ھے جو مجھے اس سے دُور کردے۔پس اپنے آپ ه یونس : ۱۰۸