سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 206

لے آئے گی۔۔۔اُن کی (حضرت داؤد کی - ناقل) مخالفت کرنے والوں نے تو یہاں تک ایجی ٹیشن کی کہ وہ انارکسٹ لوگ آپ کے قلعے پر حملہ آور ہوتے۔اور کود پڑے مگر جس کو خدا نے خلیفہ بنایا تھا ، کون تھا جو اس کی مخالفت کر کے نیک نتیجہ دیکھ سکے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ابو بکر و عمر رضی الله عنهما کو خلیفہ بنایا۔رافضی اب تک اس خلافت کا ماتم کر رہے ہیں۔مگر کیا تم نہیں دیکھتے کروڑوں انسان ہیں جو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر درود پڑھتے ہیں۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے بھی خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔۔۔۔اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔اس خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں۔تم ان سے بچو۔پھر سن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا۔اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا ورنہ اس اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا ہوں اور اس کے چھوڑ دیتے پر تھوکنا بھی نہیں اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین لے۔۔۔۔مرزا صاحب کی اولاد دل سے میری فدائی ہے۔میں سچ کہتا ہوں که جتنی فرمانبه داری میرا پیارا محمود بشیر شریف نواب ناصر نواب محمد علی خاں کرتا ہے تم میں سے ایک بھی نظر نہیں آتا۔میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ میں ایک امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں۔ان کو خدا کی رضا کیلئے محبت ہے۔بیوی صاحبہ کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں نے سُنا ہے کہ میں تو آپ کی لونڈی ہوں۔۔۔میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے۔ہاں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ سچا فرمانبردار نہیں مگر نہیں میں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار کہ تم میں سے) ایک بھی نہیں۔۔۔۔جیسا میں نے ابھی کہا ہے یہ رفض کا شعبہ ہے۔جو خلافت کی بحث