سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 132

گھوڑوں سے بہت پیار تھا اور تمام عمر آپ نے حسب توفیق متعدد گھوڑے رکھے اور اپنے بچوں اور بچیوں کو بھی سواری کا شوق دلایا۔گھوڑوں سے پیار اپنی جگہ لیکن اس سے بہت بڑھ کر اس گھوڑی کی یہ حیثیت کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک یاد گار عطیہ تھی۔اس شدید محبت کے پیش نظر جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھی، یقینا یہ گھوڑی بھی آپ کو اسی نسبت سے خاص طور پر پیاری ہوگی لیکن ذمہ داری کا احساس ایک غیر مبہم اور روشن قوت فکر اور یہ ذہنی قابلیت که مختلف اقدار کو ان کے موقع اور محل پر رکھا جانا چاہیے۔یہ تینوں صفات قطعی طور پر اس بات کی ضامن تھیں کہ آپ جذبات کے کسی ایک دھارے میں بہہ کر کوئی یک طرفہ اور غیر متوازن فیصلہ نہ کربیٹھیں۔کتنا صحیح فیصلہ ہے کہ اپنے جذبات کی قربانی کو تو قبول کر لوں گا۔مگر یہ خطرہ مول نہ لوں گا کہ میری ماں کو اس وجہ سے ادنی سی تکلیف بھی پہنچے۔گھڑ سواری ہی کے ضمن میں دو اور دلچسپ واقعات پیش کئے جاتے ہیں جو اپنے اپنے رنگ میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔اللہ کبھی جو قادیان کی ایک پرانی معروف دایا اور فضل دین قصاب کی بیوہ ہے۔اس کا خاندان احمدی تو نہیں تھا لیکن حضرت صاحب کا پرانا خدمت گزار ضرور تھا اللہ بھی اپنے بچپن کا یہ واقعہ بیان کرتی ہیں :- "جب حضور سیر کے بعد گھوڑی پر سوار ہو کر گھر آیا کرتے تو ہم با وجود اس کے کہ غیر احمدی بچیاں تھیں۔باہم مل کر ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔اور آپ سے کہتی تھیں :- " میاں محمود دی گھوڑی نوں پیٹھے میاں دی گھوڑی نوں اللہ رکھے گھوڑی دے دم دا اک بال دے دیے " حضور مسکرا کر فرماتے کہ تم بال لے کر کیا کرو گی ؟ ہم کہتیں کہ ہم پھڑیں پکڑیں گی اور ہوائی جہانہ بنا کر اُٹھائیں گی حضور فرماتے کہ اس سے گھوڑی کو تکلیف ہوگی روتے گی بیٹے گی خون نکلے گا۔لاؤ میں تمہیں خود اپنے ہاتھ سے پھڑ پکڑ دیتا ہوں۔ایک دفعہ حضور نے گھوڑی سے اتر کر ہمارے گھر کے سامنے دھریک کے درخت کے ساتھ باندھ دی اور اپنے ہاتھ سے آہستہ سے پھڑوں کے چھتے سے ایک دو پھر پکڑ لئے اور ہمیں کہا یہ تو بھڑیں۔ایسا واقعہ کتنی مرتبہ ہوگا