سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 131

١٣١ انچارج تھے اور ان کا خاندان گھوڑوں سے اچھا واقف تھا۔انہوں نے ایک گھوڑی خرید کر تحفہ بھجوا دی اور قیمت نه لی حضرت مسیح موعود علا السلام جب فوت ہوئے تو چونکہ آپ کی وفات کا اثر لازمی طور پر ہمارے اخراجات پر بھی پڑنا تھا۔اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ اس گھوڑی کو فروخت کر دیا جائے تا کہ اس کے اخراجات کا بوجھ والدہ صاحبہ پر نہ پڑے۔مجھے ایک دوست نے جن کو میرا یہ ارادہ معلوم ہو گیا تھا اور جو اب بھی زندہ ہیں کہلا بھیجا کہ گھوڑی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحفہ ہے۔اسے آپ بالکل فروت نہ کریں۔اس وقت میری عمر انیس سال کی تھی۔وہ جگہ جہاں مجھے یہ بات کسی قسمتی تھی اب تک یاد ہے۔میں اس وقت ڈھاب کے کنارے تشحید الاذہان کے دفتر سے جنوب مشرق کی طرف کھڑا تھا۔جب مجھے یہ کہا گیا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحفہ ہے اس لئے اسے فروخت نہ کرنا چاہیئے تو بغیر سوچے سمجھے معا میرے منہ سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے کہ بے شک یہ تحفہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کا ہے۔۔۔مگر میں گھوڑی کی خاطر حضرت ام المومنین کو تکلیف دینا نہیں چاہتا۔چنانچہ میں نے اس گھوڑی کو فروخت کر دیا ہے • اس واقعہ کے من و عن بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ قارئین کو حضرت مسیح موعود علیه السلام کے اس رجحان کا اندازہ ہو سکے کہ آپ ایک مجاہدانہ روح رکھتے تھے۔اس لئے سائیکل کی بجائے گھوڑے کی مردانہ سواری کو ترجیح دی۔اور گھوڑا بھی وہ جو بہت مضبوط اور طاقتور ہو۔اگر چہ یہ بات اولاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت پر روشنی ڈالتی ہے۔لیکن بلاشبہ مردانگی کی یہی صفات پوری شدت کے ساتھ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے اندر بھی پائی جاتی تھیں۔دراصل انسانی قومی کی عموغت کے بعد جو انسانی صفات ہمیں نظر آتی ہیں، اگر اس کے پس منظر میں جستجو کی جائے تو انسان کے بچپن کے زمانہ میں یہ درخت ایک چھوٹے سے نرم و نازک پودے کی صورت میں دکھائی دے گا جس کی نرم و نازک جڑیں اس قسم کے واقعات کی نرم اور زرخیز مٹی میں پیوستہ ہوتی ہیں۔دوسرا پہلو قابل توجہ اس روایت کا آخری حصہ ہے۔باوجود اس کے کہ آپ نے کو له الفضل لاہور ۱۸ / فروری باشه