سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 114

میسج موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری دس سال میں برابر ادا کرتا رہا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی یہ سلسلہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے شش سالہ دورِ خلافت میں جاری رہا۔۔۔گویا حضور کا سارا بڑھنا اور پھولنا اور با برگ و بار ہونا میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔آپ ایک نازک میتوں والے چھوٹے پودے کی طرح تھے جب کہ میں نے پہلی دفعہ حضور کو دیکھا اور یہ پودا میرے دیکھتے دیکھتے جلد جلد بڑھا اور پھول پھل لایا اور وہ حیرت انگیز ترقی کی جس کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا جائیں اور عقل دنگ ہو جاتی ہے اگر کوئی قابل انشا پرداز ہوتا تو وہ شاید اس حیرت انگیز ترقی کا نقشہ کھینچنے کی کچھ کوشش کرتا لیکن ہیں تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتا کہ اس بات کی شہادت دوں کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں آپ کی نسبت پہلے سے خبر دی گئی تھی اس کو میں نے اپنی آنکھوں سے لفظ لفظ پورا ہوتے دیکھ لیا۔مجھے اپنی زبان کی کمزوری اور قلم کی ناتوانی پر افسوس آتا ہے جو صحیح نقشہ ناظرین کے سامنے پیش کرنے سے عاجزہ ہوں لیکن میں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ بیان کرنے کی کوشش کروں گا وھو الموفق میں نے بچپن سے ہی حضور میں سوائے اوصاف حمیدہ اور خصائل محمودہ کے کچھ نہیں دیکھا۔ابتدا میں ہی آپ میں نیکی کے انوار اور تقومی کے آثار پائے جاتے تھے جو آپ کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نمایاں ہوتے گئے ممکن ہے کہ کوئی شخص میرے اس بیان کو خوش اعتقادی پر محمول کرے اس لئے میں آپ کے بچپن کی ایک بات کا ذکر کرتا ہوں جس سے ناظرین خود حقیقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔آپ کو بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہدایت فرمائی تھی کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی کھانے کی چیز نہ لینا۔یہ ایک ہدایت تھی جو حضرت اقدس علیه الصلوة دالسلام نے اپنے بچہ کو دی۔اب دیکھئے کہ وہ خورد سال بچہ حضرت اقدس کی اس ہدایت کی کس طرح تعمیل کرتا ہے۔