سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 97

96 وجود کا کیا ثبوت ہے ؟ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا۔آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی جس طرح ایک بچے کو اس کی ماں مل جائے تو اسے خوشی ہوتی ہے اسی طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا۔میں اپنے جامہ میں پھولا نہیں سماتا تھا میں نے اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دُعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا ! مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو۔اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔مگر آج بھی اس دُعا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میں آج بھی میں کہتا ہوں خدایا تیری رات کے متعلق مجھے کبھی شک پیدا نہ ہو۔ہاں اُس وقت میں بچہ تھا۔اب مجھے زائد تجریہ ہے۔اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری قوات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔جب میرے دل میں خیالات کی وہ موجیں پیدا ہونی شروع ہوئیں چن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے تو ایک دن ضحی کے وقت یا اشراق کے وقت میں نے وضو کیا اور وہ جبہ اس وجہ سے نہیں کہ خوبصورت ہے بلکہ اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے اور مشترک ہے یہ پہلا احساس میرے دل میں خدا تعالیٰ کے فرستادہ کے مقدس ہونے کا تھا ، پہن لیا تب میں نے اس کو ٹھڑی کا جس میں میں رہتا تھا دروازہ بند کر لیا اور ایک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی اور میں اس میں خوب رویا خوب رویا، خوب رویا اور اقرار کیا کہ اب نماز بھی نہیں چھوڑوں گا۔اس گیارہ سال کی عمر میں مجھ میں کیسا عزم تھا! اس اقرار کے بعد میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی گو اس نماز کے بعد کسی سال بچپن کے ابھی باقی تھے میرا وہ عدم میرے آج کے ارادوں کو شرماتا ہے مجھے نہیں معلوم میں کیوں رویا فلسفی کے گا۔اعصابی کمزوری کا نتیجہ ہے۔مذہبی کے گا تقویٰ کا جذبہ تھا مگر میں جس سے یہ واقعہ گزرا کہتا ہوں، مجھے معلوم نہیں میں کیوں رویا ؟