سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 51

سیرت الاَبدال — Page 6

سيرة الابدال اردو تر جمه ولو أُحرقوا لا يُبرقلُون ولا يكفرون اور خواہ آگ میں بھی ڈال دیئے جائیں وہ جھوٹ نہیں بالحق ولو يُبزلون ولا يتبسل بولتے۔اور نہ وہ حق کو چھپاتے ہیں خواہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے وجوههم بما أصابتهم مکارہ کر دیا جائے اور ان تکالیف پر جو اُن کو پہنچتی ہیں وہ وعلـى الله يتوكلون ويحسبون چیں بہ جبیں نہیں ہوتے۔اور وہ اللہ پر توکل کرتے ہیں اور الدنيا كَحَسُكَل فلا يتوجّهون۔دنیا کو ر ڈی سمجھتے ہوئے اُس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ومن علاماتهم أنهم يُنَبَّئُون اُن کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ مادی اسباب بإقبالهم قبل وجود الأسباب کے پیدا ہونے سے پہلے ہی انہیں اُن کی اقبال مندی کی المادية، ويُبشرون بنصر من رون بنصر من الله (غیب سے ) خبر دی جاتی ہے۔اور انہیں مایوسی او سے) في أيام اليأس وإعراض الناس ، لوگوں کے اعراض اور اس حقیر دنیا کے عمومی وسائل کے وفقدان الوسائل المعتادة في فقدان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کی هذه الدنيا الدنية، حتى أن بشارت ملتی ہے۔یہاں تک کہ بیوقوف ان پیش خبریوں السفهاء يضحكون عليهم عند کے اظہار پر ان کی جنسی اُڑاتے ہیں۔اور ان کو دیوانے إظهار تلك الأنباء، ويحسبونهم یاوہ گو یا خواہشات کے حصول کی خاطر افتر ا کرنے والے مجانين ها ذرين أو مُفترين لتحصيل سمجھتے ہیں اور وہ ( دنیا دار انہیں معدوم کرنے اور غبار کی الأهواء ، ويسعون كل السعى طرح اُڑادینے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔اس وقت اللہ ليعدموهم ويجعلوهم كالهباء ، فينزل أمر الله من السَّماء ، کا امر آسمان سے نازل ہوتا ہے اور وہ رب العزت کی عنایت کی آغوش میں بٹھا دیئے جاتے ہیں اور دشمنوں و يُقْعَدُون في حجر عناية حضرة الكبرياء ، ويُمزّق كُلّما نسج نے تکبر اور نخوت کی راہ سے اپنی ( تدبیروں کے ) جو جال العدا من التكبر والخيلاء ، بنے ہوتے ہیں وہ تار تار کر دیئے جاتے ہیں اور معاملے کا ويُقضَى الأمرُ ويُغاض سیل الفتن فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور فتنوں کا سیل رواں خشک کر دیا جاتا وتُجعَلُ خاتمة أمرهم فوز المرام ہے اور انجام کار وہ غلبہ اور عزت اور سر بلندی کے ساتھ مع الغلبة والعزّة والعلاء۔فائز المرام ہوتے ہیں۔