سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 44 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 44

ر المطلب کو یہ نام خواب کے ذریعہ بتایا گیا۔اور انہوں نے آپ صلی علیہ سلم کی ولادت پر سیدہ آمنہ سے کہا کہ اس بچہ کا نام محمد رکھیں (8) آپ نے فرمایا: حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہی نام تھے۔محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔آنحضرت کا اسم اعظم محمد ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم اللہ ہے۔اسم اللہ دیگر کل اسماء مثلاً حی، قیوم، رحمن، رحیم وغیرہ کا موصوف ہے۔حضرت رسول کریم کا نام احمد وہ ہے۔جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا ياتي من بعدى اسمه أحمد (الصف:7) من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا۔یعنی میرے اور اسکے درمیان اور کوئی نبی نہ ہو گا۔حضرت موسیٰ نے یہ الفاظ نہیں کہے ، بلکہ اُنہوں نے مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ (سورة الفتح: 30) میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے۔جب بہت سے مومنین کی معیت ہوئی جنہوں نے کفار کے ساتھ جنگ کئے۔حضرت موسیٰ نے آنحضرت کا نام محمد بتلایا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔کیونکہ حضرت موسیٰ خود بھی جلالی رنگ میں تھے۔اور حضرت عیسی نے آپ کا نام احمد بتلایا۔کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے“ اسی طرح آپ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ: ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 443-444) شان جلیل و عظیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو مظہر اتم الوہیت ہے جیسے تمام نبی ابتدا سے بیان کرتے آئے ہیں ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے اس شانِ عالی کا اقرار کیا ہے یہ اقرار جابجا انجیلوں میں موجود ہے بلکہ اسی اقرار کے ضمن میں حضرت مسیح علیہ السلام اقرار کرتے ہیں کہ میری تعلیم ناقص ہے کیونکہ ہنوز لوگوں کو کامل تعلیم کی برداشت نہیں مگر وہ روح راستی جو نقصان سے خالی ہے ( یعنی سید نا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس کا قرآن شریف میں بھی نام حق آیا ہے) وہ کامل تعلیم لائے گا اور لوگوں کو نئی باتوں کی خبر دے گا۔انجیل برنباس میں تو صریح نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو محمد ہے درج ہے اور اس کے ٹالنے کے لئے یہ ناکارہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے کسی زمانہ میں یہ نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کتاب برنباس میں درج کر دیا ہو گا یا خود کتاب تالیف کر دی ہو گی 44