سیرة النبی ﷺ — Page 43
الہامی نام: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: یہی مثل موسیٰ تھا جس کا نام محمدؐ ہے۔اس نام کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا۔خدا جانتا تھا کہ بہت سے نافہم مذمت کرنے والے پیدا ہوں گے اس لئے اس نے اس کا نام محمد رکھ دیا۔جبکہ آنحضرت شکم آمنہ عفیفہ میں تھے۔تب فرشتہ نے آمنہ پر ظاہر ہو کر کہا تھا کہ تیرے پیٹ میں ایک لڑکا ہے جو عظیم الشان نبی ہو گا اس کا نام محمد رکھنا“ اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا: تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 522) پیغمبر خداصلی ایام کے وقت میں لوگ تو آپ کی مذمت کیا کرتے تھے مگر آپ ہنس کر فرمایا کرتے تھے کہ ان کی مذمت کو کیا کروں میرا نام تو خدا نے اول ہی محمد علی ایم رکھ دیا ہوا ہے “۔( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 59) کتب احادیث وسیرت سے بھی یہی بات عیاں ہے کہ یہ نام مبارک الہامی ہے۔نیز اس کے الہامی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ان ناموں کا قرآن میں وارد ہونا ہے۔قرآن کریم میں اسم محمد متین دفعہ آیا ہے اور ایک دفعہ اسم احمد آیا ہے۔(5) ان ناموں کے الہامی ہونے کے متعلق کتب احادیث و سیرت میں سے چند روایات یہ ہیں۔عن ابی جعفرا بنُ محمد بن عَلى أُمِرَتْ آمِنهُ وهيَ حَامِلَهُ بِرَسُولِ اللهِ أَن تُسَمِّيهِ احمد - یعنی جب حضرت آمنہ رسول اللہ صلی علیکم کے حمل سے تھیں تو انہیں یہ حکم دیا گیا کہ آپ کا نام احمد ر کھیں (6) سیرت النبی گلا بن ھشام میں روایت درج ہے كم حين حملت (امنه) برسُولِ اللهِ فقيلَ لَهَا إِنك قد حملت بسّيدِ هذهِ الأُمةِ فإِذا وَقَع إلى الارضِ فَقُولى أعيذه بالواحدِمِن شَرِّ كلّ حاسِدٍثم سمّيه محمدًا (7) یعنی جب حضرت آمنہ آنحضور صلی ال نیم کے حمل سے تھیں تو ان کو کہا گیا کہ یقینا آپ اس اُمت کے سردار کی ماں بننے والی ہیں پس یہ کہو کہ میں ہر شر سے خدائے واحد کی پناہ مانگتی ہوں اور اس بچہ کا نام محمد رکھو۔اس روایت اور اس قسم کی متعدد روایات جو کتب سیرت میں موجود ہیں سے صاف ظاہر ہے کہ آپ صلی للی ملک کا نام احمد اور محمد الہامی نام تھے پھر کتب سیرت میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ 43