سیرة النبی ﷺ — Page 24
آباء واجداد: آنحضور صلی الم کے آباء اجداد نسب و حسب ہر دو لحاظ سے سب سے اعلیٰ تھے ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعائیں مانگی تھیں وہ حضرت اسحق کے حق میں بھی پوری ہوئیں اور لازم تھا کہ حضرت اسماعیل کے حق میں بھی پوری ہو تیں۔حضرت الحق کی نسل سے پے در پے نبی بر پا ہوئے اور حضرت اسماعیل کی نسل سے نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللی کم مبعوث ہوئے۔حضور نے اپنی تحریرات میں حضرت ابراہیم، حضرت اسحق اور حضرت اسماعیل کے متعلق نیز حضرت ہاجرہ اور حضرت سارہ کے متعلق نہایت اہم حقائق پر روشنی ڈالی ہے۔جن میں کچھ ذیل میں درج ہیں۔آنحضور ملیالم کا نسل اسماعیل سے ہونا: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ان لوگوں کی مثال اُن یہودی فقہاء کے ساتھ دی جاسکتی ہے جو کہ بنی اسرائیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے گزر چکے تھے اور ان کا عقیدہ پختہ تھا کہ آخری نبی جو آنے والا ہے وہ حضرت اسحق کی اولاد میں سے ہو گا اور اسرائیلی ہو گا وہ مر گئے اور بہشت میں گئے، لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ مسئلہ روشن ہو گیا کہ آنے والا آخری نبی بنی اسمعیل میں سے ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا تب بنی اسرائیل میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیئے گئے اور لعنتی ہوئے اور آج تک ذلیل اور خوار اور در بدر مصیبت زدہ ہو کر پھر رہے ہیں“ عقده ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن۔جلد 5 صفحہ 64) آنحضور صلی الم کے ظہور مبارک سے قبل تک بنی اسرائیل کا ایمان تھا کہ وہ عظیم نبی جو مبعوث ہونے والا ہے بنی اسرائیل سے ہی ہو گا لیکن جب آپ صلی اللہ علم کا ظہور بنی اسماعیل میں ہوا اور علامات نبوت روشن ہوتی گئیں تو یہ مدہ کھل گیا۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے یہود میں اس موعودہ نبی کے متعلق ان علامات کے علاوہ جو بائیبل میں موجود تھیں کچھ سینہ بہ سینہ روایات بھی مشہور تھیں جو یہ اشارہ کرتی تھیں کہ وہ نبی بنی اسماعیل میں سے ہو گا، یہاں تک کہ ان علامات سے اشارہ پاکر ان میں سے کچھ کو یہ تو معلوم ہو گیا کہ ظہور مبارک عرب بلکہ میٹر ب سے ہو گا اور اس بنا پر انکے کچھ قبائل نے بیشترب اور اس کے قریبی علاقوں میں سکونت بھی اختیار کرلی۔24