سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 23 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 23

اپنے کلام اور الہام سے مشرف کر کے بنی آدم کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے کہ تاجس قدر بگاڑ ہو گیا ہے اس کی اصلاح کرے اس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ پروردگار جو قیوم عالم کا ہے اور بقا اور وجود عالم کا اسی کے سہارے اور آسرے سے ہے کسی اپنی فیضان رسانی کی صفت کو خلقت سے دریغ نہیں کرتا اور نہ بیکار اور معطل چھوڑتا ہے بلکہ ہر یک صفت اس کی اپنے موقعہ پر فی الفور ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔پس جبکہ از روئے تجویز عقلی کے اس بات پر قطع واجب ہوا کہ ہر یک آفت کا غلبہ توڑنے کے لئے خدا تعالیٰ کی وہ صفت جو اس کے مقابلہ پر پڑی ہے ظہور کرتی ہے اور یہ بات تواریخ سے اور خود مخالفین کے اقرار سے اور خاص فرقان مجید کے بیان واضح سے ثابت ہو چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت میں یہ آفت غالب ہو رہی تھی کہ دنیا کی تمام قوموں نے سیدھا راستہ توحید اور اخلاص اور حق پرستی کا چھوڑ دیا تھا اور نیز یہ بات بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس فساد موجودہ کے اصلاح کرنے والے اور ایک عالم کو ظلمات شرک اور مخلوق پرستی سے نکال کر توحید پر قائم کرنے والے صرف آنحضرت ہی ہیں کوئی دوسرا نہیں۔تو ان سب مقدمات سے نتیجہ یہ نکلا کہ آنحضرت خدا کی طرف سے بچے بادی ہیں چنانچہ اس دلیل کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں آپ ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔اللہ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ وَاللَّهُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (سورة النحل: 64-66) یعنی ہم کو اپنی ذات الوہیت کی قسم ہے جو مبدء فیضان ہدایت اور پرورش اور جامع تمام صفات کا ملہ ہے جو ہم نے تجھ سے پہلے دنیا کے کئی فرقوں اور قوموں میں پیغمبر بھیجے۔پس وہ لوگ شیطان کے دھوکا دینے سے بگڑ گئے۔سو وہی شیطان آج ان سب کا رفیق ہے۔اور یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی کہ تا ان لوگوں کا رفع اختلافات کیا جائے اور جو امر حق ہے وہ کھول کر سنایا جائے اور حقیقت حال یہ ہے کہ زمین ساری کی ساری مرگئی تھی۔خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور نئے سرے اس مردہ زمین کو زندہ کیا۔یہ ایک نشان صداقت اس کتاب کا ہے۔پر ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں یعنے طالب حق ہیں“ (روحانی خزائن جلد 1 - براہین احمدیہ بقیہ حاشیہ نمبر 10 صفحہ 113 تا115) 23