سیرة النبی ﷺ — Page 20
تین صدیوں میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں پایا جاتا۔چھٹی صدی میں مقدسہ مریم اور اس کی گود میں بچے کی تصویریں گرجوں میں لگنی شروع ہو گئیں۔شروع میں نیت تو اچھی تھی کہ ایسی تصاویر سے جاہل تعلیم حاصل کریں مگر رفتہ رفتہ ان تصویروں کے آگے سجدہ ہونے لگا۔پہلے پہل پیٹر انطاکیہ کے پیٹر یارک نے مقدسہ مریم کا نام کلیسیا کی نماز کی کتاب میں درج کیا۔اس وقت سے اس بات کی قدرو منزلت یہاں تک بڑھ گئی کہ ساتویں صدی میں محمد صاحب نے سمجھا کہ ثالوث مقدس جنگی پرستش مسیحی کرتے ہیں وہ باپ بیٹا اور مقدسہ مریم ہیں۔کنواری مریم کی پرستش کے ساتھ ساتھ مقدسوں اور فرشتوں کی پرستش بھی شروع ہو گئی۔جن سے خدا کے حضور سفارش کی درخواست کی جاتی تھی کہ خطرات سے محفوظ رکھیں۔پانچویں صدی میں ان کی تصاویر گر جاوں میں لگائی گئیں۔انکے سامنے بتیاں جلانا، بخور جلانا اور ان کا بوسہ دینا، آخر کار پرستش ہونے لگ گئی۔کلیسیا کے اکثر بزرگوں نے ایسی رسومات اور توہمات کی مخالفت کی۔چنانچہ سیپرین (Cyprian) نے اس بات پر زور دیا کہ شہیدان کار تقج کی عزت حد سے زیادہ نہ کرنی چاہئے۔نیسیہ کے گریگوری (Gregory) اور جیروم (Jerome) نے تیر تھ گاہوں کی بڑی مخالفت کی۔ویلینٹین (Valentinian) نے مقدس مرحوموں کی پرستش ناجائز قرار دی۔ہیلویڈیس (Helvidius) نے مقدس مریم کی پرستش کی سخت مخالفت کی ان کے علاوہ اوروں نے بھی ان تو ہمات کے بارے بہت کچھ کہا سنا۔لیکن کسی نے بھی ان کے حال پکار کی پروانہ کی۔مشرقی کلیساؤں میں بت پرستی بہت بڑھ گئی چنانچہ ساتویں صدی میں محمدی حملوں سے کسی قدر اس کی صفائی بھی ہوئی چوتھی صدی خادمان دین کے تجرد کا خیال پیدا ہوا کہ ان کی شادی نہیں کرنی چاہئے راہب خانوں اور درویشوں کا میلان اس طرف زیادہ ہو گیا۔۔۔مشرق میں تو اس کی بہت پابندی نہ ہوئی مگر مغرب میں اس کا قانون بن گیا۔اس قاعدے سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوئیں۔۔۔تیسری صدی میں پریسٹ کے سامنے گناہوں کے اقرار کی رسم جاری ہوئی۔۔۔رفتہ رفتہ یہ اقرار (کو نیشن) ایک قانون بن گیا۔اور خیال ہونے لگا کہ ایسے اقراروں کے بغیر گناہوں کی معافی نہیں ہوتی ایسے اقرارات سے کئی قسم کی خرابیاں پیدیاں ہونے لگیں،۔(16)66 چوتھی اور پانچویں صدی عیسویں میں Spain میں گاتھ قوم حکمران تھی۔ان کا مذہب عیسائیت تھا اور رومی حکومت کا ہی ایک حصہ سمجھی جاتی تھی اس قوم کے سرداروں اور پادریوں کی عیاشیوں اور بد کرداریوں اور مظالم کا ذکر متعدد کتب میں مذکور ہے، مثلاً Edward Gibb نے اپنی کتاب The Decline and Fall of Empire Roman کے باب 18 میں بڑی تفصیل سے کیا ہے۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 20