سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 19 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 19

طور پر پیش فرمائے ہیں۔ذیل میں چند حوالے پیش ہیں جن میں خود عیسائیوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔پادری ڈبلیو کین پی ہیرس اپنی کتاب تواریخ مسیحی کلیسیا لکھتا ہے۔”ہمارا خداوند یسوع مسیح اس لئے دنیا میں آیا کہ تاریک ممالک کو منور کرے۔جو اقوام اندھیرے میں پڑی ہیں ان کو نور میں لائے۔تو ہمات اور بد رسومات سے چھڑائے۔جہاں کہیں خدا کی جلالی انجیل پورے طور پر سمجھی اور مانی گئی وہیں لوگ ایسی بیہودگیوں سے آزاد ہو گئے۔لیکن جہاں کہیں انسانی روایات نے انجیل کی روایات پر پردہ ڈالا اور کلیسیاد نیا مزاج کی ہو گئی وہیں تو ہمات بڑھتے گئے اور انسان اپنے ہی وہموں کے غلام بن گئے پہلی صدیوں میں کلیسیا تمام بد رسومات اور ہر طرح کے تو ہمات سے پاک تھی اس لئے انجیل پورے سادہ ایمان سے مانی گئی لیکن جب کہ بہت سے نالائق اشخاص کلیسیا میں گھس گئے اور خادمان دین کا سادہ طرز رہائش جاتارہا اور سلطنت سے تعلق پیدا ہو گیا د نیا داری اور خودی بڑھ گئی تو انجیل کی سچائی کا اثر بہت کم ہو گیا تو ہمات بڑھ گئے اور مختلف رسومات کلیسیا میں داخل ہوئیں۔مونٹن ازم، نو دیش ازم اور درویشی فرقے اس لئے پیدا ہو گئے کہ کلیسیا کی روحانی زندگی کا معیار بھی بہت ہی کم ہو گیا سیپرین (Cyprian) کا یہ خیال تھا کہ ڈینش (Danish) کی عالمگیر ایذارسانی اس واسطے ہوئی کہ تیں ۳۰( تیس) سال کے آرام سے کلیسیا کی روحانی حالت بہت بگڑ گئی تھی۔ایسی کہ بیان کرتے شرم آتی ہے۔مسیحی بتخانوں میں جاکر نمازیں کرانے لگ گئے۔دیوتاوں کے لئے پریسٹ کا کام بھی شروع کر دیا۔رومی دیوتاوں کی قربانیوں میں بھی شریک ہونے لگ گئے۔مسیحی عورتوں نے پجاریوں سے شادیاں کیں، ناپاکی بہت بڑھ گئی بشپوں اور خادمان دین نے تجارت شروع کر دی ان حالات کو دیکھ کر کوئی تعجب نہیں کہ کلیسیا میں بد رسومات اور توہمات گھس آئے ہوں ایسی رسومات اور توہمات کا آغاز یوں ہوا کہ دوسری صدی میں مسیحی شہدا کی عزت حد سے زیادہ ہونے لگی۔ایسے مقدسوں کی عزت و حرمت تو واجب ہے لیکن یہ عزت اس درجہ تک جا پہنچی کہ پرستش ہونے لگی گویا خدا کا حق شہیدوں کو ملنے لگ گیا، شہدا کے مزاروں پر عبادتیں ہونے لگیں، جہاں وہ شہید ہوئے وہیں گرجے بن گئے رفتہ رفتہ شہدا کو وہی درجہ ملنے لگا جو بت پرستوں میں دیوتاوں اور قوم کے بہادروں کو ملتا ہے، ان سے دعائیں مانگنا، خدا کے حضور ان کی سفارشوں کے خواستگار ہونا، شہدا کے تبرکات جیسے ہڈی کے ٹکڑے بال کپڑوں کے ٹکڑے بطور تعویز استعمال ہونے لگے۔جب ایسے تبرکات کی قدر ہونے لگی تو جعلی تبرکات بنے شروع ہو گئے۔درویشوں خادمان دین نے ایسی چیزوں کی تجارت شروع کر دی۔اور یہ بھی شہرت ہونے لگی کہ ان سے معجزات بھی سرزد ہوتے ہیں شہدا کی جائے پیدائش اور رہائش وغیرہ زیارت گاہیں بن گئیں۔۔۔چوتھی صدی میں مقدسہ مریم کی پرستش شروع ہو گئی، پانچویں صدی میں یو ٹیکن اور نسٹورین مباحثوں میں یہ پرستش اور بھی عروج پاگئی۔پہلی 19