سیرة النبی ﷺ — Page 258
سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ وہ ضعیف القلب جنگلی کس کا نام لے سکتا تھا۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھایا اور کہا جا تجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ مروت اور شجاعت مجھ سے سیکھ۔اس اخلاقی معجزہ نے اس پر ایسا اثر کیا کہ وہ مسلمان ہو گیا“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن جلد 1 صفحہ 63) نوٹ: یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع کا ہے۔(بخاری، کتاب المغازی ب، ذات الرقاع باب من علق سيفه) " یہ وہ نمونہ ہے جو ہم اسلام کا دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اسی اصلاح اور ہدایت کا باعث تھا جو اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر آنحضرت میا علیم کا نام محمد رکھا جس سے زمین پر بھی آپ کی ستائش ہوئی۔کیونکہ آپ نے زمین کو امن صلح کاری اور اخلاق فاضلہ اور نیکوکاری سے بھر دیا تھا۔میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ آنحضرت علی ایم کے جس قدر اخلاق ثابت ہوئے ہیں وہ کسی اور نبی کے نہیں، کیونکہ اخلاق کے اظہار کے لیے جب تک موقع نہ ملے کوئی اخلاق ثابت نہیں ہو سکتا۔مثلاً سخاوت ہے۔لیکن اگر روپیہ نہ ہو تو اس کا ظہور کیونکر ہو، ایسا ہی کسی کو لڑائی کا موقع نہ ملے تو شجاعت کیونکر ثابت ہو۔ایسا ہی عفو، اس صفت کو وہ ظاہر کر سکتا ہے جسے اقتدار حاصل ہو۔غرض سب خلق موقع سے وابستہ ہیں۔اب سمجھنا چاہئے کہ یہ کس قدر خدا کے فضل کی بات ہے کہ آپ کو تمام اخلاق کے اظہار کے موقعے ملے حضرت عیسی علیہ السلام کو وہ موقعہ نہیں ملے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخاوت کا موقع ملا۔آپ کے پاس ایک موقع پر بہت سی بھیڑ بکریاں تھیں۔ایک کافر نے کہا کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکری جمع ہیں کہ قیصر و کسری کے پاس بھی اس قدر نہیں۔آپ نے سب کی سب اس کو بخش دیں۔وہ اسی وقت ایمان لے آیا۔کہ نبی کے سوا اور کوئی اس قسم کی عظیم الشان سخاوت نہیں کر سکتا۔مکہ میں جن لوگوں نے دکھ دیئے تھے۔جب آپ نے مکہ کو فتح کیا تو آپ چاہتے تو سب کو ذبح کر دیتے، مگر آپ نے رحم کیا اور لَا تَثْرِيبَ عَلَيكُم اليومَ کہہ دیا۔آپ کا بخشا تھا کہ سب مسلمان ہو گئے۔اب اس قسم کے عظیم الشان اخلاق فاضلہ کیا کسی نبی میں پائے جاتے ہیں۔ہر گز نہیں وہ لوگ جنھوں نے آپ کی ذات خاص اور عزیزوں اور صحابہ کو سخت تکلیفیں دی تھیں اور نا قابل عفو ایذائیں پہنچائی تھیں۔آپ نے سزا دینے کی قوت اور اقتدار کو پاکر فی الفور ان کو بخش دیا؛ حالانکہ اگر ان کو سزادی جاتی، تو یہ بالکل انصاف اور عدل تھا، مگر آپ نے اس وقت عفو اور کرم کا نمونہ دکھایا۔یہ وہ امور تھے کہ علاوہ معجزات کے صحابہ پر موثر ہوئے تھے۔اسلیے آپ اسم با مسمی محمد ہو گئے تھے۔ملیالم اور زمین پر آپ کی حمد ہوتی 258