سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 257 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 257

داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو ۲ چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزار ہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کر دیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا۔اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا۔اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الہی مخلوط تھی" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی معجزات: آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 65،66) اب میں چاہتا ہوں کہ چند باتیں اور کہہ کر اس تقریر کو ختم کر دوں۔میں تھوڑی دیر کے لئے معجزات کے سلسلہ کی طرف پھر عود کر کے کہتا ہوں کہ ایک خوارق توشق القمر وغیرہ کے علمی رنگ کے ہیں اور دوسرے حقائق و معارف کے۔تیسر اطبقہ معجزات کا اخلاقی معجزات ہیں۔اخلاقی کرامت میں بہت اثر ہوتا ہے۔فلاسفر لوگ معارف اور حقائق سے تسلی نہیں پاسکتے۔مگر اخلاق عظیمہ ان پر بہت بڑا اور گہرا اثر کرتے ہیں۔حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ آپ ایک درخت کے نیچے سوئے پڑے تھے کہ ناگاہ ایک شور و پکار سے بیدار ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جنگلی اعرابی تلوار کھینچ کر خود حضور پر آپڑا ہے۔اس نے کہا۔اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم) بتا۔اس وقت میرے ہاتھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے پورے اطمینان اور سچی سکینت سے جو حاصل تھی فرمایا کہ اللہ۔آپ کا یہ فرما نا عام انسانوں کی طرح نہ تھا۔اللہ جو خدا تعالیٰ کا ایک ذاتی اسم ہے اور جو تمام جمیع صفات کاملہ کا مجمع ہے۔ایسے طور پر آپ کے منہ سے نکلا اور دل پر ہی جا کر ٹھہرا۔کہتے ہیں کہ اسم اعظم یہی ہے اور اس میں بڑی بڑی برکات ہیں، لیکن جس کو وہ اللہ یاد ہی نہ ہو ، وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا۔الغرض ایسے طور پر اللہ کا لفظ آپ کے منہ سے نکلا کہ اس پر رعب طاری ہو گیا اور ہاتھ کانپ گیا۔تلوار گر پڑی۔حضرت نے وہی تلوار اٹھا کر کہا کہ اب بتلا۔میرے ہاتھ 257