سیرة النبی ﷺ — Page 214
حضرت عائشہؓ سے متعلق ایک اعتراض کا جواب: ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ آنحضور صلی اللہ ﷺ کا حضرت عائشہ کے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا اس کا جواب آپ نے ان الفاظ میں دیا: پھر آپ حضرت عائشہ صدیقہ کا نام لے کر اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مقدس نبوی کا بدن سے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا اب اس ناپاک تعصب پر کہاں تک روویں۔اے نادان جو حلال اور جائز نکاح ہیں۔ان میں یہ سب باتیں جائز ہوتی ہیں یہ اعتراض کیسا ہے کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے اِدھر اُدھر نکل گئیں اور آخر نا گفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی۔اے نادان ! فطرت انسانی اور اس کے سچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے ہر قسم جائز اسباب کو برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے اسلام کے بانی علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسے برتا اور اپنی جماعت کو ایک نمونہ دیا مسیح نے اپنے نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط تکالے۔اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا ناپاک چکلہ بن جانا ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کتوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس ناجائز آزادی سے تنگ آکر آہ و فغان کرنا اور برسوں دیوشیوں اور سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودہ طلاق پاس کرانا یہ کس بات کا نتیجہ ہے۔کیا اس قدوس مطہر۔مزگی نبی امی کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے آپ معترض ہیں یہ نتیجہ ہے۔اور ممالک اسلامیہ میں یہ تعفن اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوسی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے اب دوزانو ہو کر بیٹھو اور یوم الجزا کی تصویر کھینچ کر غور کرو“ ( نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 393،392) 214