سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 213 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 213

دوسرے کو ولد الزنا کہا جیسا کہ پلید طبع یہودیوں نے۔آپ کو چاہیے کہ ایسے اعتراضوں سے پر ہیز کریں“ ( نور القرآن نمبر 2 ،روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 380) پانچواں اعتراض۔بھلا اس مسئلہ پر بھی کبھی توجہ فرمائی ہے کہ حضرت رسول خدا محمد صاحب کا اپنی بیوی حضرت عائشہ نو سالہ سے ہم بستر ہونا کیا اولاد پیدا کرنے کی نیت سے تھا۔اما الجواب۔یہ اعتراض محض جہالت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔کاش اگر نادان معترض پہلے کسی محقق ڈاکٹر یا طبیب سے پوچھ لیتا تو اس اعتراض کرنے کے وقت بجز اس کے کسی اور نتیجہ کی توقع نہ رکھتا کہ ہر ایک حقیقت شناس کی نظر میں نادان اور احمق ثابت ہو گا۔ڈاکٹر مون صاحب جو علوم طبعی اور طبابت کے ماہر اور انگریزوں میں بہت مشہور محقق ہیں وہ لکھتے ہیں کہ گرم ملکوں میں عور تیں آٹھ یا نو برس کی عمر میں شادی کے لائق ہو جاتی ہیں۔کتاب موجود ہے تم بھی اسی جگہ ہو اگر طلب حق ہے تو آکر دیکھ لو۔اور حال میں ایک ڈاکٹر صاحب جنہوں نے کتاب معدن الحکمت تالیف کی ہے۔وہ اپنی کتاب تدبیر بقاء نسل میں بعینہ یہی قول لکھتے ہیں جو اوپر نقل ہو چکا۔اور صفحہ ۴۶ میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ نو یا آٹھ یا پانچ یا چھ برس کی لڑکیوں کو حیض آیا۔یہ کتاب بھی میرے پاس موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔ان کتابوں میں کئی اور ڈاکٹروں کا نام لے کر حوالہ دیا گیا ہے اور چونکہ یہ تحقیقا تیں بہت مشہور ہیں اور کسی دانا پر مخفی نہیں اس لئے زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔اور حضرت عائشہ کا نو سالہ ہونا تو صرف بے سرو پا اقوال میں آیا ہے۔کسی حدیث یا قرآن سے ثابت نہیں لیکن ڈاکٹر واہ صاحب کا ایک چشم دید قصہ لینسٹ نمبر ۱۵ مطبوعہ اپریل ۱۸۸۱ء میں اس طرح لکھا ہے کہ انہوں نے ایسی عورت کو جنایا جس کو ایک برس کی عمر سے حیض آنے لگا تھا اور آٹھویں برس حاملہ ہوئی اور آٹھ ۸ برس دس ۱۰ مہینہ کی عمر میں لڑکا پیدا ہوا“ آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 64،63) 213