سیرة النبی ﷺ — Page 156
اکابر صحابہ کی بھی یہی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر ہی دفاعی جنگ کی جائے۔لیکن اکثر نوجوان صحابہ نے اصرار کیا کہ باہر میدان میں نکل کر جنگ لڑی جائے۔چنانچہ آنحضور صلی علیم نے ان کا اصرار دیکھ کر مدینہ سے باہر نکل کر جنگ لڑنے کا فیصلہ فرمایا۔(8) مختصر یہ کہ میدان احد میں یہ جنگ لڑی گئی آنحضور صلی ا ظلم کی بہترین حکمت عملی سے میدان جنگ میں باوجود مسلمانوں کی قلیل تعداد کے فتح نصیب ہوئی لیکن دژہ پر موجود کچھ صحابہ کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر دشمن کو مسلمانوں پر اچانک حملہ کرنے کا موقع مل گیا جس سے مسلمانوں کو شدید نقصان ہوا آنحضور کے خواب کے مطابق بہت سے صحابہ شہید ہوئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔اور سب سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ خود نبی پاک صلی علیم بھی زخمی ہوئے اور آپ صلی للی یکم کے چچا حضرت حمزہ بھی شہید ہوئے۔کتب تاریخ میں درج ہے کہ ابن قمئہ نے آنحضور صلی میرم پر اچانک اس زور سے حملہ کیا کہ صحابہ کے دل دہل گئے۔اگر چہ حضرت طلحہ نے کمال جانثاری سے یہ حملہ اپنے اوپر لے لیا لیکن اس شدید صدمہ سے آپ گر گئے اور یہ خبر پھیل گئی کہ نعوذ با للہ آنحضور شہید ہو گئے ہیں۔ایک اور بد بخت نے آپ ملکی تعلیم کی طرف ایک بھاری پتھر پھینکا جس سے آپ کی رخسار پر شدید گہر از خم آیا اور کچھ دانت بھی شہید ہو گئے۔صحابہ جو قریب تھے آپ کو اٹھا کر ایک قدرے محفوظ جگہ لے گئے۔حضرت علی نے آپ صلی علیکم کے چہرے کو دھونے اور صاف کرنے کی سعادت حاصل کی (9) لڑائی میں سب سے بہادر : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں۔جس کا سایہ ایسا ہے کہ کروڑہا مخلوق اس میں مرغی کے پروں کی طرح آرام اور پناہ لیتی ہے۔لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا تھا۔کیونکہ آپ بڑے خطر ناک مقام میں ہوتے تھے۔سبحان اللہ ! کیا شان ہے۔احد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں۔ایسی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے کہ صحابہ برداشت نہیں کر سکتے۔مگر یہ مرد میدان سینہ سپر ہو کر لڑ رہا ہے۔اس میں صحابہ کا قصور نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا بلکہ اس میں بھید یہ تھا کہ تارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے۔ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ میں ہوں۔کہتے ہیں حضرت کی پیشانی پر ستر زخم لگے۔مگر زخم خفیف تھے۔یہ خلق عظیم تھا“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 84) 156