سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 154 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 154

دو خوشیاں اکٹھی ملیں: غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (الروم 2 تا 5 میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔رومی اپنی سرحد میں اہل فارس سے مغلوب ہو گئے ہیں اور بہت ہی جلد چند سال میں یقیناً غالب ہونے والے ہیں پہلے اور آئندہ آنے والے واقعات کا علم اور ان کے اسباب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں جس دن رومی غالب ہوں گے وہی دن ہو گا جب مومن بھی خوشی کریں گے۔اب غور کر کے دیکھو کہ یہ کیسی حیرت انگیز اور جلیل القدر پیشگوئی ہے ایسے وقت میں یہ پیش گوئی کی گئی جب مسلمانوں کی کمزور اور ضعیف حالت خود خطرہ میں تھی۔نہ کوئی سامان تھا نہ طاقت تھی ایسی حالت میں مخالف کہتے تھے کہ یہ گروہ بہت جلد نیست و نابود ہو جائے گامرت کی قید بھی اس میں لگادی اور پھر یومئذ يفرح المؤمنون کہہ کر دوہری پیشگوئی بنادی یعنی جس روز رومی فارسیوں پر غالب آئیں گے اسی دن مسلمان بھی بامراد ہو کر خوش ہوں گے؛ چنانچہ جس طرح یہ پیشگوئی کی تھی اسی طرح بدر کے روز یہ پوری ہو گئی ادھر رومی غالب ہوئے اور ادھر مسلمانوں کو فتح ہوئی۔اسی طرح سورۃ یوسف میں آیات للسائلین کہہ کر اس سارے قصہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیشگوئی بیان فرمایا ہے“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 2 صفحہ 32،31) مندرجہ بالا ارشاد میں غلبہ روم والی جس آیت کا ذکر کیا گیا ہے یہ آیت چھ نبوی میں نازل ہوئی۔اور جس دن بدر کی جنگ ہوئی اسی دن رومیوں کی ایرانیوں پر فتح کی خبر بھی ملی۔اس طرح یہ دو خوشیاں اکٹھی ملیں۔(6) غزوه أحد : غزوہ بدر کی شکست کے بعد کفار مکہ مسلسل انتقام کی آگ میں سلگتے رہے۔اور اس غم نے انکی راتوں کی نیندیں اور دن کا سکون حرام کر رکھا تھا۔بدر سے پہلے کی نسبت اب کئی گنازیادہ جوش و خروش سے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش میں تھے۔بدر سے تقریباً ایک سال بعد ہی ایک دفعہ پھر بہت بڑا لشکر تیار ہو کر مکہ سے روانہ ہوا اور مدینہ کے نزدیک اُحد پہاڑ کے دامن میں خیمہ زن ہوا۔یہ لشکر تین ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھا۔اور پوری طرح اسلحہ سے لیس تھا۔اس کے مقابل مسلمانوں کی تعداد پوری کوشش کے باوجو د صرف سات سو تھی۔اور اکثر غیر مسلح تھے۔لیکن ایمان اور نصرت خداوندی سے آراستہ تھے۔فتح و نصرت مسلمانوں کو ہی نصیب ہوئی۔سیدنا 154