سیرت احمد — Page 86
159 158 قادیان رہا۔گرمیوں کے موسم میں ایک دفعہ ہم لوگ بیٹھے تھے۔حضور نے فرمایا جب میں بچہ تھا اور مولوی گل علی شاہ صاحب کے پاس پڑھا کرتا تھا۔ان روایات اے احمدین صاحب زرگر مهاجر سیر میں ایک دن حضرت صاحب کو خواب سنایا۔اور اس خواب میں ستار دنوں میں میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ میں ایک تخت پر بیٹھا ہوا ہوں۔بہت کا ذکر تھا۔آپ نے اس کی تعبیر کی اور تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ سنار کی قوم سے لوگ ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں۔پھر جب ہم براہین احمدیہ لکھتے تھے۔اس مکار ہوتی ہے۔یہ لفظ سن کر میں ڈر گیا۔جب حضور واپس تشریف لائے اور وقت الہام ہوا۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَانْتَهى امر الزمان گھر جانے لگے۔میں نے عرض کیا۔حضور میں یہ کام چھوڑ دوں۔کیونکہ اليْنَاهُذَا تَأْوِيلُ رُؤيَا ى قدْ جَعلها رَبَى حَقا - یعنی جب فتح آپ نے فرمایا ہے کہ سنار کی قوم مکار ہوتی ہے۔فرمایا۔نہ کبھی ہم بھی زیور اور نصرت آگئی اور ہماری بات اپنی انتہا کو پہنچ گئی جو ہماری طرف سے تھی۔یہ تیرے خواب کی حقیقت جس کو میرے رب نے ہی کر کے دکھایا۔پھر فرمایا۔ایک دفعہ میں نے دیکھا۔براہین احمدیہ سے بہت پہلے اس وقت میری عمر تقریباً بتیس تینتیس سال کی تھی۔کہ جناب الہی نے اپنا ہاتھ میری گردن میں ڈالا ہے۔اور فرمایا :- ” جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو۔" کے واسطے کہہ دیتے ہیں اور یہ ثواب کا کام ہے۔ایک دن میں نے عرض کیا کہ حضور سنار کھوٹ ملانے کے سبب سے زیور کم مزدوری پر بنا دیتے ہیں۔جو زیور دس روپیہ کی مزدوری کا ہوتا ہے ایک روپیہ میں بنا دیتے ہیں۔اور کھوٹ ڈال کر اپنا کام پورا کر لیتے ہیں۔اب چونکہ میں نے توبہ کرلی ہے۔اس لئے میں یہ کام نہیں کر سکتا۔مگر جب دوسرے لوگوں کو اور جگہ کم مزدوری پر زیور بنتا ملے گا۔وہ ہم سے کیوں بنوا ئیں گے کھوٹ کا تو ان کو علم نہیں ہو تا۔آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں کو کہدو کہ اب ہم سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے ہیں۔اب ہم کھوٹ نہیں ملاتے۔اگر پوری مزدوری نہ دیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی اور راہ کھولے گا۔ایک دن حضور میر سے واپس تشریف لائے۔میں نے عرض کیا حضور مجھے کوئی اپنا کپڑا بطور تبرک دیں۔آپ نے اندر جا کر اسی وقت اپنا کوٹ اتار کر بھیج دیا۔קי 1