سیرت احمد

by Other Authors

Page 85 of 131

سیرت احمد — Page 85

157 156 کھانسی کی تکلیف تھی۔مگر نواب صاحب کے کہنے پر حضور ٹھہر گئے۔اور سے بڑھ کر ہوں۔باقی دوسرے لوگ جو انبیاء اور اصفیاء کے مراتب کو نواب احسان علی خان نے آگے آکر عرض کیا کہ حضور میں کچھ عرض کرنا نہیں جانتے۔انہوں نے صرف نام یاد کر لئے۔جیسے ہمارے ملک کے میراثی چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔فرمائیے۔انہوں نے کہا جو حضور کی کتب میں یاد کر لیتے ہیں۔ان کو کوئی تعلق کسی کے مرتبہ سے نہیں ہو تا۔نہ کسی کی لکھا ہے کہ آپ امام حسین سے بڑھ کر ہیں۔یہ آپ نے لکھا ہے یا آپ فضیلت سے یہ لوگ بھی جو امام حسین کے عاشق کہلاتے ہیں۔مرکر دیکھ لیں کے کسی مرید نے لکھا ہے۔فرمایا نہیں نہیں ہم نے لکھا ہے۔اور آپ نے گے کہ نہ امام حسین کے یہ اور نہ امام حسین ان کے۔بلکہ یہ بھی علم ہو فرمایا کہ فضیلت مراتب کی جو ہوتی ہے وہ لوگ جانتے ہیں۔جو اسی زمرہ سے جائے گا کہ امام حسین ان اعتقادات سے سخت بیزاری رکھتے ہیں۔ہوتے ہیں۔میں ان جو ہروں کا ایک ٹکڑا ہوں اور اسی گروہ سے ایک انسان ایک دفعہ گرمیوں کے موسم میں ہم سب احباب حضرت صاحب کی ہوں۔میں ان سب لوگوں کی فضیلتوں کو خوب سمجھتا ہوں۔ان کے مراتب خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔اور حضرت صاحب شاه نشین پر تشریف فرما ہمیں دکھائے جاتے ہیں۔اگر میں اس بات میں مفتری ہوں تو خدا تو وہ قادر تھے۔مسجد کے اوپر کے حصہ میں حضرت مولوی نور الدین صاحب آپ کے ہے کہ مفتری کو ایک رات کے لئے بھی مہلت نہیں دیتا۔اور مجھے جن جن قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے حضرت صاحب کو مخاطب کر کے لوگوں سے جناب الہی نے بڑھ کر فرمایا ہے۔انہی کی نسبت میں نے کہا ہے۔فرمایا۔کہ حضور یہ جو لوگ تمام احادیث کو مہدی آخر الزمان کی طرف اور اس میں خاص وجوہات ہیں۔ان لوگوں کی پرستش لوگوں نے جناب الہی منسوب کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔اصل میں مہدی بہت سے کی طرح شروع کر دی۔اس لئے اس نے نہ چاہا کہ میرا کوئی شریک ہو۔ہوئے ہیں۔کسی کے دو کندھوں میں نشان مہر نبوت تھا۔کسی نے مال تقسیم مسیح ناصری اور امام حسین کی نسبت مجھے فرمایا کہ تم کہو کہ میں ان انسانوں کیا ہے۔اور کسی نے بیت اللہ میں لوگوں سے بیعت لی ہے۔اور انہی لوگوں سے بڑھ کر میں سے ایک نے قسطنطنیہ بھی فتح کیا ہے۔یہ سب مختلف اشخاص ہوئے ہیں۔مولوی صاحب نے فرمایا۔حضور ایسا تو نہیں ہے۔ہیں۔جنہوں نے مختلف کام کئے ہیں اور ان سب لوگوں کی نسبت احادیث ایک عیسائی جس کا نام عبد الحق تھا، یہاں آیا۔اس نے آٹھ سوال تجویز میں تذکرہ اور پیشگوئیاں ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب کیا کئے کہ یہ حضرت صاحب سے طے کروں گا۔چنانچہ سیر کے وقت جب حضور ان لوگوں نے دعوے کئے ہیں۔اور ان کی کوئی الہامی کتابیں ہیں۔اور پھر کے ساتھ گیا۔تو بغیر اس کے سوال کے حضور نے خود ہی آتے جاتے اپنی ان کے ماننے والی جماعتیں ہیں جو انکو مہدی سمجھتی ہیں۔اور ان کے کوئی تقریر میں جواب دے دیا۔وہ یہی کرامت سمجھ کر اسلام لے آیا اور کئی سال الہام موجود ہیں جن کی بنا پر انہوں نے دعویٰ کیا۔کہ وہ منجانب اللہ مہدی