سیرت احمد — Page 29
45 44 کہا ہاں۔اس نے کہا افسوس ہے کہ حضرت صاحب تم کو ملنے کے لئے آواز آئی۔میں لوٹا پھر حضور کو باہر تشریف فرما پایا۔فرمایا ابھی میاں تشریف لائے تھے۔تم نہ ملے۔حضرت صاحب واپس تشریف لے گئے۔عبد اللہ کو لکھ دو کہ رحمت اللہ کو باغ میں رکھیں اور مرغ کے چوزوں کی میں نے کہا تم پھر اطلاع کر دو۔اس نے کہا۔واہ حضرت صاحب کیا بار بار بیخنی پلادیں۔آدیں گے۔وہ تو تمہاری خوش قسمتی تھی کہ باوجود مصروفیت کے حضرت پھر میں نے دیکھا کہ حضور سیر میں دوسرے تیسرے روز مجھ سے پوچھ صاحب ملنے آئے تھے۔میں نے کہا تم پھر کہدو۔اس نے انکار کیا۔میں نے لیتے میاں عبداللہ کے لڑکے کی خبر خیرت آئی ہے یا نہیں۔جب کچھ حال اصرار کیا۔اللہ تم کہدو۔اس نے واپس جاکر حضرت صاحب سے عرض معلوم ہو تا تو عرض کر دیتا۔ایک دن حضور نے فرمایا۔آج میاں عبد اللہ کا کیا۔آپ کے ہاتھ میں مکرم عبد اللہ سنوری صاحب کا خط تھا اسے ہاتھ میں خط آیا ہے۔تمہارا بھائی راضی ہے۔فرمایا مجھے بڑی خوشی ہوئی۔میں بھی لئے حضور فورا ہی تشریف فرما ہوئے اور السلام علیکم کہا۔میں نے جواب حضور کی اس بندہ نوازی سے خوش ہوا۔جس دن روانگی کا ارادہ ہوا۔میں دیا۔وعلیکم السلام - من کر کے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نذرانہ پیش نے حضرت صاحب کی خدمت میں اجازت کے لئے عریضہ لکھا۔اور دعا کی کیا۔حضرت صاحب نے وہ لیکر جیب میں ڈالا۔اور اچھی زور کی آواز سے خواہش کی اور ساتھ ہی یہ خواہش تحریر کی کہ حضور کا ایک دستی رو مال اگر جزاک اللہ فرمایا۔جو دل میں ایک عجیب اثر کر گیا۔پھر فرمایا تم میاں عبد اللہ تیر کامل جائے تو زہے قسمت۔میری بیوی خط لیکر اندر گئی۔حضور نے وہ کی جگہ کام کرتے ہو۔اور نظر شفقت مجھ پر ڈالی۔میں نے عرض کیا۔ہاں خط پڑھا اور ام المومنین سے فرمایا کہ میاں قدرت اللہ کی بیوی کو میرا ایک حضور ان کا قائم مقام ہوں۔پھر خط کو دیکھا اور دوبارہ وہی فرمایا۔پھرسہ دستی رومال دے دو۔اس کے میاں تبر کا رومال مانگتے ہیں۔مگر وہ رومال مرتبہ وہی فرمایا۔میں جواب میں وہی فقرہ عرض کرتا رہا۔پھر آپ نے دینا جو کثرت سے میرے ہاتھ میں رہا ہو۔چنانچہ ام المومنین نے فورا ایک فرمایا۔میاں عبد اللہ سمجھے ہیں۔کہ برگ بیلا ہے وہ برگ بیلا نہیں بلکہ برگ ململ کا رومال جس کو حضرت صاحب نے اکثر دفعہ استعمال کیا تھا اٹھا کر میری بید ہے۔آپ ان کو خط لکھ دیں۔میں نے عرض کیا بہت خوب۔حضور اندر بیوی کو دے دیا اور یہ کہا کہ اس کو حضرت صاحب نے کثرت سے ہاتھ میں تشریف لے گئے۔میں زینہ میں آیا ہی تھا کہ حضور نے پھر آواز دی اور لیا ہے۔حضرت صاحب نے وہ رومال میری بیوی کے ہاتھ سے لے لیا اور فرمایا۔ابھی میاں عبد اللہ کو لکھ دینا۔اور ساتھ ہی یہ بھی لکھنا کہ رحمت اللہ اپنے دونوں مبارک ہاتھوں میں دبایا اور پھر میری بیوی کو دیا۔اور فرمایا۔کو باغ میں کھلی ہوا میں رکھیں اور پندرہ پندرہ دن کے مرغے کے چوزوں اپنے میاں سے یہ کہدینا کہ یہ رومال حضرت صاحب کا ہی ہے اور آپ نے کی یخنی انہیں پلاویں۔پھر حضور تشریف لے گئے۔میں نیچے اترنے لگا۔پھر ہی دیا ہے بلکہ اس وقت بھی آپ نے اپنے ہاتھ کو مل کر دیا ہے تاکہ تمہاری 1