سیرت احمد — Page 15
17 16 ایک دفعہ حضور نے جہلم جانا تھا۔راستہ میں کچھ دن لاہو ر بھی ٹھہر نا تھا۔جب اسٹیشن پر اترے ہم بہت سے لوگ حاضر تھے۔اس سال حضور کے ساتھ حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید بھی تھے۔بڑے بڑے لوگ اپنی کو ٹھیوں مکانوں پر تیاریاں کئے ہوئے تھے کہ حضور کو وہاں لے جائیں۔مگر جب حضرت اترے میں نے عرض کیا۔میرے دو مکان ہیں۔ایک شہر میں ہے۔ایک یہاں قریب ہی ہے اگر حضور مناسب خیال فرماویں تو میرے اسی قریب کے مکان میں اتر پڑیں۔اور یہ خالی ہے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا۔چنانچہ حضور اس عاجز کے مکان پر ہی اترے اور لوگوں کو جواب دے دیا۔اور وہاں قیام فرمایا۔دوسرے تیسرے روز میں نے موقعہ پا کر عرض کیا کہ حضرت دعا فرما دیں اور یہ مکان مبارک ہو جاوے۔اور اگر حضور فرماویں تو بال بچہ کو بھی یہاں لے آؤں۔کیونکہ آب و ہوا اچھی ہے۔آپ نے فرمایا میں تو اس مکان کو بڑا بابرکت دیکھتا ہوں۔کیونکہ میں نے اس میں نمازیں پڑھیں اور اتنی جماعت نے نمازیں پڑھی ہیں۔میں تو یہاں نمازیں اور جماعتیں ہوتی دیکھتا ہوں۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے آج احمدی جماعت لاہور کے چار سو یا پانچ سو افراد اسی مکان میں نماز اکثر اوقات میں پڑھتے ہیں۔اور جمعہ بھی اسی مکان میں ہوتا ہے۔ایک دفعہ ایک مخالف نے اخبار میں شائع کر دیا کہ (نعوذ باللہ من ذالک) حضرت مسیح موعود کو جذام ہو گیا۔لاہور میں ایک کھلبلی مچ گئی۔مخالفوں نے بڑا شور مچایا۔گیارہ مخالف لاہور سے تیار ہوئے کہ چلو قادیان تماشہ دیکھ کر آویں۔چنانچہ مجھے بھی کچھ بے چینی ہوئی میں بھی چلا آیا۔ان گیارہ اشخاص میں سے پانچ اشخاص تو بٹالہ سے واپس ہو گئے کہ چلو جی سنا ہے مرزا صاحب جادو کر دیتے ہیں کہیں ہم کو جادو سے مرید نہ کرلیں۔چھ ان میں سے قادیان کو آئے۔میں ان لوگوں سے پہلے یکہ پر بیٹھ کر قادیان آگیا تھا۔جب میں آیا حضرت صاحب کو خدا کے فضل سے خوش و خرم تندرست پایا۔مگر میں نے کچھ ذکر نہ کیا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ چھ آدمی لاہور والے آگئے۔تو جب وہ اگر حضور کی مجلس میں بیٹھے انہوں نے کچھ ذکر نہیں کیا تھا کہ حضور نے پاجامہ کھینچ کر اپنی ایک پنڈلی سنگی کردی اور جو اصحاب پاؤں دبا رہے تھے ان کو کہا خوب دباؤ۔پھر حضور نے دوسری پنڈلی اسی طرح ننگی کر دی۔اسی طرح حضور نے دونوں بازو کہنیوں تک خود بخود یکے بعد دیگرے ننگے کئے۔پھر حضور نے کرتہ مبارک اٹھا کر اس کو پنکھے کی طرح ہلایا۔جس سے حضور کا پیٹ ننگا ہو جاتا تھا۔جب حضور نے یوں کیا۔وہ لاہوری بولا۔اٹھے۔کیسے بد معاش ہیں (یعنی اخبار والے لاہور کے) کیسا جھوٹ شائع کیا ہے۔حضرت صاحب کچھ نہ بولے۔پھر ان میں سے دو تین آدمیوں نے بیعت کر لی۔باقی یونہی چلے گئے۔روایت ۹ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک دفعہ حضور دہلی میں تشریف لے گئے۔مخالف لوگوں نے بڑی بڑی شرارتیں کرنی چاہیں حتی کہ قتل کا ارادہ کر لیا۔پولیس نے بڑا کافی انتظام کیا۔جب نہایت ہی تشویش بڑھی۔انسپکٹر پولیس خود حضور کے ساتھ ہو